ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 71 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 71

71 ادب المسيح اب وقت آیا ہے کہ ہم ایک موضوع کے تحت حضرت اقدس کے اُردو اشعار کی چند مثالیں پیش کریں۔جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ اس غرض کے لیے ہم نے ابلاغ ارسالت“ کا موضوع اختیار کیا ہے اس موضوع کے تعلق میں ایک مشکل کا سامنا ہو جاتا ہے۔یہ کہ حقیقت میں حضرت کے تمام کلام کا مرکزی موضوع ابلاغ رسالت ہی“ ہے۔یہ اس طور سے کہ ابلاغ رسالت میں تو اول آپ کے ماموریت کے دعاوی آتے ہیں۔اور پھر وہ تمام روحانی اور علمی منصب جو آپ کو رسالت باری تعالیٰ کے فیضان کے طور پر عطا ہوئے ہیں۔وہ بھی آپ کی رسالت کے صدق کا ثبوت فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔اور اس اعتبار سے وہ بھی ابلاغ رسالت کے موضوع کے تحت آجائیں گے۔مثلاً حمد و ثناء باری تعالی۔صدق رسول اکرم - نعت قرآن - حمایت اسلام اور محبت الہی۔چنانچہ اس نہج پر دیگر بھی یہ وہ موضوعات ہیں جن کو ہم مستقل اور ممتاز موضوعات کے تحت پیش کرنا چاہتے ہیں۔اس لیے اس موضوع کے تحت ہم نے صرف چند ایک ذیلی عنوانات کا انتخاب کیا ہے تا کہ موضوعات با ہم اس طور سے قریب نہ ہوں کہ ان کی انفرادی نوعیت قائم نہ رہ سکے۔اور اسی دستور کو ہم آپ کے عربی اور فارسی کلام میں بھی اپنانے کی کوشش کریں گے اردو زبان اور اس کے اسلوب کے بارے میں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اس مضمون کو قدرے تفصیل سے بیان کرنے کی وجہ اول تو یہ ہے یہ زبان حضرت اقدس کی قومی زبان ہے اور آپ حضرت کے پیغام رسالت کا بہت وسیع حصہ اس زبان میں بیان ہوا ہے۔اور قرآن کریم کے فرمان کی پاسداری میں ایسا ہونا بھی ضروری تھا۔جیسے فرمایا وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمُ (ابراهيم: 5) ہم نے ہر رسول کو اس کی قومی زبان میں تبلیغ ہدایت کے لیے بھیجا ہے۔دوسرا خیال یہ بھی تھا کہ دراصل آپ حضرت کے متبعین کا عظیم حصہ آپ کی قوم کا ہے جس کی قومی زبان اردو ہے۔اس اعتبار سے ان کا حضرت کے اردو کلام سے فائدہ اور لطف اُٹھانے کا زیادہ حق ہے۔کوشش ہوگی کہ فارسی اور عربی کلام کے بیان میں اختصار سے کام لیا جائے۔ذیلی عنوانات کو ہم نے ایسے ترتیب دیا ہے۔اول۔آپ کا عقیدہ اور دعاوی دوم۔انذار اور تبشیر