ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 52 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 52

ادب المسيح 52 کثرت مکالمه ومخاطبہ باری تعالٰی نصیب ہو۔اور جو اس طور سے عاشق محبوب حقیقی ہو کہ ہمہ وقت حسن و جمال یار کے آثار کا متلاشی ہو دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حسن و جمال یار کے آثار ہی سہی ہم نے حضرت اقدس کے تمام موضوعات شعری کو بیان نہیں کیا آئندہ میں وہ عنوانات اپنے مقام پر آئیں گے اس وقت حضرت اقدس کے موضوعات شعری کے بنیادی عناصر کو بیان کر کے چند ایک ایسے موضوعات بیان کیے ہیں جو اسلامی ادب میں یکسر نا پیدا اور بے نام ونشان ہیں۔ایسا ہونا بھی لازم تھا کیونکہ ان موضوعات کی تخلیق کے لیے ایک ایسی ہستی کے ظہور پر ٹور کی ضرورت تھی جو ان کیفیات اور مشاہدات کا مورد اور واصل ہو مگر تسلسل بیان میں اس حقیقیت کا اظہار بھی واجب ہے کہ اسلامی ادب میں ان شعری عنوانات کے نوادرات کو شامل کرنا آپ حضرت کا اسلامی ادب پر ایک عظیم احسان ہے۔اسلامی ادب کے لیے یہ ایک صرف اضافہ ہی نہیں بلکہ صداقت دین اسلام کے ثبوت فراہم کرنے کے اعتبار سے سرمایہ افتخار و عظمت بھی ہے۔مرسلین باری تعالیٰ کے اختیار کردہ موضوعات کلام کے تعلق میں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ زیر نظر کوشش میں ہم جس مرسل خدا مسیح دوراں اور مہدی آخر زمان کے محسنات کلام کو پیش کر رہے ہیں وہ اس زمرہ مرسلین باری تعالیٰ کی ایک ایسی جلیل القدر ہستی ہے جس کو خیر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں آنحضرت کی وراثت عرفانِ الہی بھی نصیب ہے اور جو اس منصب کی برکت کی وجہ سے تمام گذشتہ رسولوں کی روحانی عظمتوں کا حامل بھی ہے۔جیسے فرماتے ہیں: انبیاء گرچه بوده اند ہے من بعرفان نه کمترم ز کسے اگر چہ انبیاء بہت ہوئے ہیں مگر میں معرفت الہی میں کسی سے کم نہیں ہوں اگرام وارث مصطف شدم یقیں به شده رنگیں برنگِ یار حسیں میں یقیناً مصطفے کا وارث ہوں اور اس حسین محبوب کے رنگ میں رنگین ہوں آنچه داداست ہرنبی را جام داد آن جام را مرا بتمام جو جام اُس نے ہر نبی کو عطا کیا تھا وہی جام اُس نے کامل طور سے مجھے بھی دیا ہے اس منصب عالی کی تصدیق بلکہ ایک اعتبار سے تفصیل میں حضرت اقدس کو اس عظیم الشان الہام باری تعالیٰ سے نوازا گیا ہے۔