ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page vi
vii ادب المسيح انتساب خاکسارکی یہ کوش میری والدہ مرحومہ سار بیگم در خلیہ اسی الثانی رضی الہ عنہ کے نام ہے۔اول اس لیے کہ میرے دل میں ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ کاش وہ میری ہوشمندی کے زمانہ تک زندہ ہوتیں تو میں چھوٹی موٹی خدمت اور مہلکے پھلکے پیار سے ان کا دل گرما تا اور ان کے لیے چند خوشی کے لمحات پیدا کرتا۔ایسا تو نہیں ہوسکا اور وہ اس زمانے سے بہت قبل اپنے محبوب حقیقی کے پاس چلی گئیں۔مگر میں خیال کرتا ہوں کہ شائد میری تمنا کے صدق کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق بخشی ہے کہ میں ان کی محبوب ہستی اور آقا کے کلام کے حسن و خوبی کی تلاش کی اس کوشش کو ان کے نام سے منسوب کروں۔اور پھر ایسا ہو کہ آپ اپنے بیٹے کی اس خدمت کو مادری فخر اور عاجزی کے ساتھ اپنے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں تحفہ پیش کریں۔دوسرے درجہ پر یہ انتساب اس لیے بھی موزوں ہے کہ میرے ننھیال کی روایات اور میرے نانا محترم مولانا عبدالماجد کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ میری والدہ صاحب علم و ادب خاتون تھیں اور خصوصاً فارسی زبان کا علم اور شعری ادب کا عالمانہ فہم اور ذوق سلیم رکھتی تھیں۔دوروایات سناتا ہوں : اول یہ کہ میرے نا نامحترم نے اپنی بیٹی کی جواناں مرگ رحلت کے غم میں ان کو یاد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خلیفتہ المسیح الثانی کے نکاح میں آنے کے بعد جب ان کی رخصتی کا وقت آیا تو آپ ماں باپ کی جدائی اور ایک دور در از اجنبی منزل کی طرف روانہ ہونے پر بہت مضطرب تھیں۔اس اضطراب کو دور کرنے کے لیے نا نا محترم نے ان کے کان میں سعدی کا یہ شعر اپنے نام کی تبدیلی کے ساتھ بار بار سنایا تو آپ کا اضطراب دور ہوا: تا نہ پنداری که تنها می روی دیده ماجد و دل همراه تست ترجمہ: یہ گمان نہ کرو کہ تم تنہا جا رہی ہو۔ماجد کا دیدہ و دل تمہارے ساتھ ہے۔یہ شعر سعدی کی شہکار غزلوں میں سے ایک ہے جو محبوب ہستی کی جدائی اور فراق کے مضمون میں معروف ہے۔