ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 15 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 15

15 ادب المسيح ی بھی دراصل لفظ کی کم مائیگی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بے پایاں احسانات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ میں طاقت اظہار نہیں ہے۔وگر نہ قلبی شعور کے اعتبار سے آپ حضرت کو احسانات خداوندی کا کامل عرفان تھا۔آپ حضرت نے لفظ کی اس کم مائیگی کا اظہار عربی زبان میں ثناء باری تعالیٰ کے مضمون میں بھی کیا ہے۔فرماتے ہیں: يَا مَنْ أَحَاطَ الْخَلْقَ بِالْآلَاءِ نُشِئُ عَلَيْكَ وَ لَيْسَ حَوُلُ ثَنَاءِ ترجمہ: اے وہ ذات جس نے اپنی نعمتوں سے مخلوق کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ہم تیری تعریف کرتے ہیں لیکن تعریف کی طاقت نہیں پاتے۔دراصل لفظ کو جمالیاتی اقدار کے اظہار کے قابل بنانے اور قلبی کیفیات کے بیان میں کامیاب کرنے ہی کا نام ”ادب“ ہے۔انیس نے اس محنت اور ریاض کو بہت خوبصورت بیان کیا ہے:۔گلدستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں اک پھول کا عنواں ہو تو سورنگ سے باندھوں یہاں پر لفظ معنی خیال اور جذبے کے معنوں میں ہے۔یعنی یہ کہ خیال اور جذبے کے اظہار اور ابلاغ کے لیے الفاظ کے پھولوں کو کیسے ترتیب دوں تا کہ خیال اور الفاظ با ہم مل کر حسن کاری کریں۔شاید عابد علی عابد اس مسئلے کو واضح تر انداز میں بیان کر رہے ہیں۔کہتے ہیں:۔لفظ کے روپ میں ڈھلتے نہیں وہ افسانے جو مرے چشم تخیل میں بپا ہوتے ہیں لفظ کے پردہ زرتار میں خوبانِ خیال کبھی مستور کبھی پردہ کشا ہوتے ہیں بات کچھ طویل ہو گئی ہے۔کہنا یہ چاہتا ہوں کہ لفظ کے حقیقی معنوں کی حد بندی نے ادبیوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنے قلبی اور جذباتی خیالات کے اظہار کے لیے لفظ کی معنوی دلالتوں میں وسعت پیدا کریں۔اس کوشش نے ادب میں علم مجاز کی تخلیق کی ہے اور لفظ کے معانی میں استعارہ۔کنایہ۔تشبیہات اور علامات کی مدد لے کر لفظ کو بے انتہا معنوی وسعت دی ہے۔اور اس قابل بنایا ہے کہ وہ حسن کاری کر سکے۔