ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 209
209 ادب المسيح مطلب ہر دل جمال روئے اُوست گھر ہے گرہست بہر کوئے اُوست اُسی کے منہ کا جمال ہر ایک دل کا مقصود ہے اور کوئی گمراہ بھی ہے تو وہ بھی اُسی کے کوچہ کی تلاش میں ہے جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شناء اپنی ذات کی عظمت اور صفات کے حسن و جمال کے اظہار میں بیان کی ہے اس لئے ثناء کے مضمون میں قرآن کریم کے اصولی بنیادی فرمودات پیش کرنے کے بعد ہم خدا تعالیٰ کے ان فرمودات کو پیش کرتے ہیں جن میں باری تعالیٰ نے اپنی ذات گرامی کی عظمت کو بیان کیا ہے اس عنوان میں ہم نے اول سورۃ البقرۃ کی آیت الکرسی کا انتخاب کیا ہے اور دوم سورۃ الاخلاص کا۔یہ انتخاب در اصل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے جیسا کہ آپ نے اس آیت کریمہ کو سيدة آية القرآن یعنی آیات قرآنیہ کی سردار کہا ہے۔اور سورۃ اخلاص کے بارے میں فرمایا: قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ القُرآن یعنی سورۃ الاخلاص قرآن کریم کا ثلث ہے۔( ترمذی کتاب فضائل القرآن ) (ترمذی کتاب فضائل القرآن اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَةَ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيٍّ مِنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَوْدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِ الْعَظِيمُ (البقرة:256) حضرت اقدس اس آیت کریمہ کے معانی اور تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یعنی وہی خدا ہے اُس کے سوا کوئی نہیں وہی ہر ایک جان کی جان اور ہر ایک وجود کا سہارا ہے۔اس آیت کے لفظی معنے یہ ہیں کہ زندہ و ہی خدا ہے اور قائم بالذات وہی خدا ہے۔پس جبکہ وہی ایک زندہ ہے اور وہی ایک قائم بالذات ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص جو اس کے سوا زندہ نظر آتا ہے وہ اُسی کی زندگی سے زندہ ہے اور ہر ایک جوز مین یا آسمان میں قائم ہے وہ اسی کی ذات سے قائم ہے۔فرماتے ہیں: ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) حقیقی وجود اور حقیقی بقا اور تمام صفات حقیقیہ خاص خدا کے لیے ہیں کوئی اُن میں اُس کا شریک نہیں وہی بذاتہ زندہ ہے اور باقی تمام زندے اُس کے ذریعہ سے ہیں۔اور وہی اپنی