ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 201
201 ادب المسيح اور وہی شخص ہے جس کو آسمان میں احمد کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور قریب کیا جاتا ہے اور عزت کے گھر اور قصارة الدار میں داخل کیا جاتا ہے اور وہ عظمت اور جلال کا گھر ہے جو بطور استعارہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا نے اس کو اپنی ذات کیلئے بنایا پھر اس گھر کو بطور مستعار اُس کو دے دیتا ہے جو اس کی ذات کا ثنا خوان ہو۔پس یہ شخص زمین و آسمان میں خدا تعالیٰ کے حکم کے ساتھ تعریف کیا جاتا ہے۔اور آسمانوں اور زمین میں محمد کے نام سے پکارا جاتا ہے۔جس کے یہ معنے ہیں کہ بہت تعریف کیا گیا۔اور یہ دونوں اسم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ابتدا دنیا سے وضع کئے گئے۔( نجم الہدی صفحہ 14،13، رخ جلد 14 ) اور آخر پر فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فداہ ابی وامی کے بعد حمد و ثناء باری تعالیٰ کی قبولیت کا یہ منصب اس کو بھی دیا جاتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور اظلال ہو۔فرماتے ہیں: ثم يعطيان للذى صار له كالاظلال والآثار۔و من أعطى من هذين الاسمين بقبس فقد انير قلبه بانواع الانوار۔و قد جرى على شفتي الرسول المختار۔ان الله يرزق منهما عبدا له في اخر الزمان كما جاء في الاخبار۔فاقرء واثم فکروایا اولی الابصار۔پھر بعد اس کے اس شخص کو بطور مستعار دیے جاتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور اظلال و آثار ہو۔اور جس شخص کو ان دونوں ناموں سے ایک چنگاری دی گئی تو اس کا دل کئی قسم کے نوروں سے روشن کیا گیا۔اور رسول مختار کے لب مبارک پر جاری ہوا تھا کہ خدا تعالی آخری زمانہ میں ایک اپنے بندے میں یہ دونوں صفتیں جمع کر دیگا جیسا کہ حدیثوں میں وارد ہے۔پس اے دانشمند و ! ان حدیثوں کو پڑھو اور سوچو۔( نجم الہدی صفحہ 14، رخ جلد 14 ) میہ وہی معرفت ہے جو حضرت اقدس نے سورۃ القصص کی ذیل کی آیت کی تفسیر میں بیان کی ہے۔وَهُوَ اللهُ لا إلهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الأولى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تَرْجَعُونَ (القصص: 71)