ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 150 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 150

المسيح 150 اور عربی زبان میں قرآن کریم کی محبت کا دور جام دیکھے طَرِيٌّ طَلَاوَتُهُ وَ لَمْ تَعْفُ نُقْطَةٌ لِمَا صَانَهُ اللهُ الْقَدِيْرُ الْمُوَقَّرُ اس کی ترو تازگی ہمیشہ ہی شاداب ہے اور اس کا ایک نقطہ بھی نہ مٹ سکا کیونکہ عزت بخش اور قدیر خدا نے اس کی حفاظت فرمائی ہے فَيَا عَجَبًا مِنْ حُسْنِهِ وَ جَمَالِهِ 0 ارى أَنَّهُ دُرِّ وَّ مِسْكَ وَ عَنْبَرُ پس اس کا حسن اور جمال کیا ہی عجیب ہے۔میں تو اس کو موتی۔کستوری اور عنبر ہی پاتا ہوں فَهَلْ فِي النَّدَامَى حَاضِرٌ مَّنْ يُكَوِّرُ وَ إِنَّ سُرُوْرِي فِي إِدَارَةِ كَأْسِهِ اور میری خوشی تو اس کے پیالہ کوگردش میں لانے میں رہی ہے۔کیا ہم مجلسوں میں کوئی ہے جو بار بار لے؟ اس سے قبل میں بھی عرض کیا گیا ہے کہ آپ حضرت کا اسلوب شعری کا تین زبانوں کے اقدار ادب اور اساتذہ شعر کے مطابق ہونے کا موضوع قدرے طویل اور مفصل ہو گیا ہے۔مگر حضرت اقدس کے کلام کے محاسن پیش کرنے کے لیے یہ تقابلی تفصیل از بس ضروری تھی۔مگر اس تفصیل کا حقیقی اور محترم فائدہ تو یہ ہے کہ ایک حد تک یہ حقیقت بھی روشن ہو گئی کہ حضرت کا عربی کلام در اصل قرآن کریم کے اسلوب بیان اور انتخاب الفاظ کا اتباع ہے۔اور اس حقیقت کو روشن کرنا ہی ہما را اولین مقصد تھا یہ مقصد صرف موضوعات شعر کے اتحاد کو بیان کر کے ہی حاصل ہوسکتا تھا۔عربی ہی ایسی زبان تھی جس میں آپ حضرت کا اتباع قرآن تمام ادبی اقدار کی روشنی میں ثابت کیا جا سکتا تھا۔یعنی ا ترجیحات قلبی اور موضوعات شعر میں اتباع۔||۔اسلوب بیان میں اتباع۔||| انتخاب الفاظ اور محاورہ زبان میں اتباع۔ہمیں امید ہے کہ اس کوشش سے ایک حد تک تینوں مقاصد تحریر حاصل ہو گئے ہیں۔فالحمد للہ علی ذلک