ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 141
141 ادب المسيح مقصد اس اتحاد کو ثابت کرنا تھا جو بہت حد تک حاصل ہو گیا ہے وگر نہ جو احباب ادب جاہلیہ اور حضرت کے کلام کا تفصیلی علم رکھتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ اتحاد اسلوب ادبی کے اثبات میں ایسی ایسی ان گنت امثال پیش کی جاسکتی ہیں۔اس مضمون کی ابتدا میں عرض کیا گیا تھا کہ عربی زبان کے سفر بلوغت کے دو ہی سنگ میل ہیں۔اول: ادب جاہلیہ دوم: قرآن کریم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فصاحت رسانی کہ آپ افصح العرب“ تھے یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ ادب جاہلیہ کو اول اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہی وہ ادب ہے جس کے مقابل پر اللہ تعالیٰ اپنے کلام کے برتر اور اعلیٰ ہونے کا دعوی فرماتا ہے۔اس لیے اس کا اول بیان ہو نا لا زم تھا۔ان دو حقائق کے پیش نظر لازم تھا کہ ہم حضرت اقدس کے عربی شعر کے محاسن کو ان دونوں ادب ہائے عالیہ کے حسن کلام کے سامنے پیش کرتے اور یہ جائزہ لیتے کہ آپ حضرت کا کلام کس حد تک ان کے قائم کردہ اقدار ادب کی مطابقت میں ہے۔یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اسلوب ادب علمی بھی ہوتا ہے اور ادبی بھی۔ادبی اسلوب کا تعلق زبان اور اس کے محاورے اور تشبیہی دلالتوں سے ہوتا ہے مگرعلمی اسلوب موضوعات کے انتخاب اور ترجیحات قلبی اور مشاہدات نظری سے قائم ہوتا ہے اس لیے باوجود اس حقیقت کے کہ قرآن کریم اور حضرت اقدس کا ادب عربی زبان اور اس کے محاورے کے اعتبار سے ادب جاہلیہ کے اسلوب پر ہے اور اسی اسلوب میں اس سے اعلیٰ اور ارفع ہے مگر علمی اسلوب کے اعتبار سے جس کو انتقاد میں ” مواد ادب“ کہتے ہیں۔ان دونوں ادبی شاہکاروں کا ادب جاہلیہ سے کوئی تعلق اور رشتہ نہیں ہے۔قرآن کریم اور اس کے اتباع میں حضرت اقدس کے مواد ادب اول طور پر ثبوت ہستی باری تعالیٰ اور صداقت انبیاء اور فرمودات قرآن کریم ہیں اور دوسرے درجے پر خدا کی محبت۔اس کی عبادت اور اخلاق حسنہ میں اس کی تعلیم ہے۔اس کے برعکس مادی دنیا کے انسان کے مواد ادب انسان کے باہم عشق ومحبت میں ہجر و وصال کا ذکر اور مادی آسائشوں کا حصول یا فقدان کا نوحہ ہے۔مواد اور موضوعات کے اس تفاوت اور اختلاف کی بناء پر حضرت مسیح موعود کا عربی کلام اُسی کلام کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے جس کی ترجیحات آپ کے کلام سے مکمل متحد اور ہم رنگ ہوں۔