ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 137
137 ادب المسيح فَفَاضَتْ دُمُوعُ الْعَيْنِ مِنِّى تَدَلُّلاً وَقَصَدْتُ عَنْبَرُ سَرَ وَ قَطْرِيَ يَمُطُرُ تب میری آنکھوں سے عاجزی سے آنسو جاری ہو گئے اور میں نے اس حال میں امرتسر کا ارادہ کیا کہ میرے آنسوؤں کی جھڑی لگ رہی تھی۔امراؤ القیس اپنے محبوب سے جدا ہونے پر کہتا ہے فَفَاضَتْ دُمُوعُ العَيْنِ مِنِّيٍّ صَبَابَةٌ عَلَى النَّحْرِ حَتَّى بَلَّوُ مَعِي مَحْمَلِي اس کی محبت میں آنسو میری آنکھوں سے میرے سینے پرگرے یہاں تک کہ انہوں نے میری تلوار کی میان کو بھگو دیا۔ایک شعر اور سُن لیں۔امراؤ القیس رات کی تاریکی اور خوف وخطر کے بیان میں کہتا ہے۔وَلَيلٌ كموج البحر اَرحَى سُدُولَة عَلَيَّ بانواعِ الهُمُومِ لِيَبتل اور بہت تاریک راتوں نے سمندر کی امواج کی طرح سے مصائب کے پردے مجھ پر ڈالے حضرت اقدس عام گمراہی اور بے دینی کے عالم کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔تَرَانَتْ غَوَايَاتٌ كَرِيحٍ عَاصِفٍ وَ أَرْحَى سُدُولَ الْغَيِّ لَيْلٌ مُكَدَّرُ گمراہیاں تند ہوا کی طرح نظر آرہی ہیں اور تاریکی پیدا کرنے والی رات نے گمراہی کے پردے لٹکا دیے ہیں۔حضرت اقدس کے اشعار سے امراؤ القیس کے اشعار کا تقابل قدرے طویل ہو گیا ہے۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ امراؤ القیس جاہلیہ کے شعراء کا سردار اور استاد ہے۔اس شاعر کے قصیدے کو عربی ادب کا شاہکار گردانتے ہوئے قریش نے اول مقام پر خانہ کعبہ کی دیوار پر آویزاں کیا تھا اور جاہلیت کے ہر شاعر نے کوشش کی ہے کہ وہ کسی نہ کسی حد تک اس کے اسلوب بیان اور لفظی محاسن کو حاصل کرے اس لیے اگر حضرت اقدس اور امراؤ القیس کے اسالیب شعر کے اتحاد و یک رنگی کو قدرے تفصیل سے بیان کر دیا جائے تو گویا ہم نے تمام عربی کلاسیکی ادب کا موازنہ حضرت اقدس کے ادب سے کر دیا ہے۔دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ حقیقت میں حضرت اقدس کے اشعار میں بے شمار امثال اسی شاعر کے اسلوب شعری اور انتخاب لفظی سے اتحاد رکھتی ہیں۔تا ہم صرف امراؤ القیس پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا۔اساتذہ شعر عربی میں حضرت اقدس نے طرفہ اور کبید کو بھی قابل اعتنا سمجھا ہے کچھ امثال ان کی بھی ملاحظہ کر لیں۔