ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 136
ب المسيح 136 آپ حضرت اپنے قلم کی شان کو بیان کرتے ہوئے امراؤ القیس کے ایک مکمل مصرع کو اختیار فرماتے ہیں۔وَأُعْطِيتُ قَلْمًا مِثْلَ مُنْجَرِدَ الْوَغَى فَيُسْعِرُ نِيرَانَا وَ كَالْبَرْقِ يَخْفِقِ اور میں قلم لڑائی کے گھوڑے کی طرح دیا گیا ہوں پس آگ کو سلگاتی اور برق کی طرح ہلتی ہے مِكَرٌ مِفَرٌ مُقْبِلٌ مُدْبِرٌ مَّعًا گدَابِ أَجَارِدَ عِندَ مَوْقِدِ مَازِقِ حملہ کرنے والے، بھاگنے والے، آگے ہونے والے، پیچھے ہونے والے جیسا کہ لڑائی کے میدان میں عمدہ گھوڑوں کی عادت ہے۔شعرعربی میں امراؤ القیس کا ایک زندہ جاوید شعر اپنے محبوب کے حسن و جمال کے بیان میں ہے۔کہتا ہے: تضيءُ الظُّلامَ بالعَشيء كانها منارة مُمُسَا رَاهِبٍ مُتَبَيِّل وہ اپنے حسن سے رات کی تاریکی اس طرح روشن کر دیتی ہے جیسا کہ ایک تارک الدنیا راہب کا چراغ ہو۔حضرت اقدس قرآن کریم کے نور کی ضیاء پاشی اور برکات کے بیان میں فرماتے ہیں۔يُضِيءُ الْقُلُوبَ وَيَدُ فَعَنَّ ظَلَامَهَا وَيَشْفِي الصُّدُورَ سَوَادُهُ وَيُهَدِّبُ وہ دلوں کو روشن کرتا اور ان کی تاریکیوں کو دور کرتا ہے اور اس کی تحریر سینوں کو شفا دیتی ہے اور مہذب کرتی ہے۔فَقُلْتُ لَهُ لَمَّا شَرِبُتُ زَلَالَهُ فِدَّى لَّكَ رُوحِي أَنْتَ عَيْنِي وَ مَشْرَبُ پس میں نے قرآن سے کہا جب میں نے اس کا صاف پانی پیا۔تجھ پر میری جان قربان ہو کہ تو میر اچشمہ اور گھاٹ ہے۔اور فرماتے ہیں: تُضِيءُ الظَّلامَ مَعَارِفِي عِنْدَ مَنْطِقِى وَقَوْلِى بِفَضْلِ اللَّهِ دُرِّ مُنَوَّرُ میری گفتگو کے وقت میرے معارف ظلمت کو روشنی سے بدل دیتے ہیں اور میرا قول اللہ کے فضل سے روشن موتی ہے۔ایک مثال اور دیتا ہوں۔عبداللہ تم سے مباحثہ کے لیے امرت سر کی طرف روانہ ہونے کے ذکر میں فرماتے ہیں۔وَبَشَّرَنِي قَبْلَ الْجِدَالِ بِلُطْفِهِ فَقَالَ لَكَ الْبُشْرَى وَ اَنْتَ الْمُظَفَّرُ اور مقابلہ سے پہلے ہی اس نے اپنی مہربانی سے مجھے بشارت دے دی۔سو کہا: تجھے بشارت ہو تو ہی کامیاب ہونے والا ہے۔