ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 108 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 108

ب المسيح 108 یہ امر تو دونوں قصائد کے مطلع سے ہی ثابت ہے کہ آپ حضرت نے سعدی کے قصیدے کے جواب میں ہی اپنا قصیدہ رقم فرمایا ہے مگر جو بات ہم پیش کرنا چاہتے ہیں۔وہ ان دونوں کے محرکات تخلیق کا اختلاف ہے یعنی ایک طرف دنیوی جاہ و حشمت کے تلف ہونے کا غم ہے اور دوسری جانب اسلامی اقدار اور دین سے محبت کے فقدان کا غم ہے۔دراصل حضرت اقدس کا قصیدہ سعدی کے نقطہ نظر کی اصلاح کی غرض سے ہے۔یعنی یہ کہ اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و شان اس روحانی تعلیم کی وجہ سے ہے جو وہ لائے نہ کہ دنیوی جاہ وحشمت سے۔فرماتے ہیں۔اے مسلماناں چہ آثار مسلمانی ہمیں ست دیں چنیں ابتر شما در جیفہ دنیا رہیں ترجمہ: اے مسلمانو! کیا یہی مسلمانی کی علامتیں ہیں دین کی تو یہ حالت ہے اور تم مر دارد نیا سے چھٹے ہوئے ہو قصیدہ کی صنف شعر میں جو شاعر صاحب منصب ہیں۔ان کے اقتباسات تو پیش کئے جاچکے ہیں۔خاص طور پر سعدی کے قصیدے کا حضرت کے قصیدے سے ایک حد تک فتنی اور علمی تقابل بھی ہے۔اب ہم زیر قلم مضمون کے موضوع کے مطابق فارسی زبان میں ابلاغ رسالت کے چند نمونے قصیدے کی صنف میں پیش کرتے ہیں۔اول مقام پر ہم حضرت کے دعوئی مسیحیت کے بیان میں آپ کے عظیم الشان میمیا قصیدے کے اقتباسات پیش کرتے ہیں۔ادبی اعتبار سے یہ قصیدہ حافظ شیرازی کے مشہور قصیدہ کی زمین میں ہے جو اس نے بادشاہ منصور کی مدح میں رقم کیا تھا اس لحاظ سے حافظ شیرازی کے اسلوب بیان سے بھی آپ حضرت کے اسلوب کا تقابل ہو جائیگا اور کوشش ہوگی کہ اختلاف موضوع کی پاسداری کیساتھ دونوں قصائد کی ادبی شان کا تقابلی مطالعہ بھی ہو جائے۔یہ کوشش اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ قصائد صرف ایک زمین ہی میں رقم نہیں ہوئے بلکہ بہت سے اشعار میں ان کا لفظی اور معنوی اتحاد بھی پایا جاتا ہے۔بلکہ اسی زمین میں حضرت اقدس کے ایک شعر کا مصرعہ ثانی حافظ سے توارد ہے۔حافظ کہتے ہیں: گر بر کنم دل از تو و بردارم از تو مهر ایں مہر بر که افگنم آں دل کجا برم ترجمہ: اگر تجھ سے دل ہٹالوں اور تجھ سے محبت نہ کروں تو اس محبت کو کس پر وارد کروں! اس دل کو کہاں لے جاؤں۔