ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 107
107 ادب المسيح خون فرزندان، عمّم مصطفى شد ریخته ہم براں خا کی کہ سلطاناں نہا دندے جبیں کہ رسول کے چچا عباس کی اولاد کا خون اسی زمین پر جہاں سلاطین اپنی پیشانیاں جھکاتے تھے بہہ رہا ہے۔اور پھر آپ حضرت کا فرمان مشاہدہ کریں۔فرماتے ہیں۔می سزد گر خون بارد دیدہ ہر اہلِ دیں بر پریشاں حالی اسلام وقحط المسلمین مناسب ہے کہ ہر دیندار کی آنکھ خون کے آنسو روئے ، اسلام کی پریشان حالی اور قحط المسلمین پر دین حق را گردش آمد صعبناک و سهمگیں سخت شورے اوفتاد اندر جہاں از کفر وکیس خدا کے دین پر نہایت خوفناک اور پر خطر گردش آگئی۔کفر وشقاوت کی وجہ سے دنیا میں سخت فساد برپا ہو گیا آنکه نفس اوست از ہر خیر وخوبی بے نصیب می تراشد عیبها در ذات خير المرسلین و شخص جس کا نفس ہر ایک خیر و خوبی سے محروم ہے وہ بھی حضرت خیر الرسل کی ذات میں عیب نکالتا ہے آنکه در زندان ناپاکی ست محبوس و اسیر هست درشان امام پاکبازاں نکتہ چیں! وہ جو خو ناپاکی کے قید خانے میں اسیر و گرفتار ہے وہ بھی پاکبازوں کے سردار کی شان میں نکتہ چینی کرتا ہے۔تیر بر معصوم مے بارد جیسے بد گہر آسمان را مے سز دگر سنگ بارد بر زمیں بداصل اور خبیث انسان اُس معصوم پر تیر چلاتا ہے آسمان کو مناسب ہے کہ زمین پر پتھر برسائے۔پیش چشمان شما اسلام در خاک اوفتاد چیست عذرے پیشِ حق اے مجمع المُتَنعمیں تمہاری آنکھوں کے سامنے اسلام خاک میں مل گیا۔پس اے گروہ امراء تمہارا خدا کے حضور میں کیا عذر ہے۔ہر طرف کفر است جوشاں ہمچو ا فواج یزید دین حق بیمار وبیکس ہمچو زین العابدیں افواج یزید کی مانند ہر طرف کفر جوش میں ہے اور دین حق زین العابدین کی طرح بیمار وبیکس ہے مردم ذی مقدرت مشغول عشرتہائے خویش محرم وخنداں نشسته با بُنانِ نازنین امراء عیش وعشرت میں مشغول ہیں اور حسین عورتوں کے ساتھ خرم وخنداں بیٹھے ہیں عالماں را روز وشب با ہم فساد از جوش نفس زاہداں غافل سراسر از ضرورتہائے دیں! علماء دن رات نفسانی جوشوں کے باعث آپس میں لڑ رہے ہیں اور زاہد ضروریات دین سے بالکل غافل ہیں۔