ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 438 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 438

ب المسيح 438 آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے جب سے یہ ٹور ملا ٹور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفیٰ پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اُس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے اس مقام پر ہم اس امر کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں کہ مخالفین حضرت اقدس نے آپ کے اس شعر پر ایک صدی سے واویلا کر رکھا ہے۔کربلا است سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم کربلا میری ہر آن کی سیرگاہ سینکڑوں حسین میری گریبان کے اندر ہیں گاہ ہے۔مگر اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ سیر تصوف کی اصطلاح ہے۔اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی تلاش میں مجاہدہ اور اُس کے قرب کا مقام ہے دوسرے الفاظ میں آپ ” حضرت حسین کے مجاہدہ کر بلا کو ایک روحانی مجاہدہ قرار دے رہے ہیں اور اپنے مجاہدات کو حضرت حسین کے مجاہدات سے تشبیہ دے رہے ہیں۔اور اگر صد حسین است در گریبانم پر ناراضگی ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ حضرت کو تمام انبیاء کے گلے پہنا دیئے ہیں اور اس اعزاز پر آپ فرماتے ہیں زنده بہ پیرهنم شد ہر نبی آمدنم ہر رسولے نہاں ہرنبی میرے آنے سے زندہ ہو گیا اور ہر رسول میرے پیراہن میں پوشیدہ ہے مخالفین کو اس حقیقت کا ادراک مشکل ہو گیا ہے کہ جو بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔وہ گذشتہ کے تمام مرسلین اور واصلین باری تعالیٰ کی تصدیق کر رہا ہوتا ہے۔ان تمام گذارشات کے ساتھ اس حقیقت کو حضرت اقدس نے تاکیڈا بیان کیا ہے کہ یہ سب مناصب آپ کو آپ کے آقا اور مطاع حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت اور وراثت میں ملے ہیں۔آپ اس اعزاز کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: