ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 436 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 436

المسيح 436 مقام او میں از راه تحقیر بدورانش رسولاں ناز کردند اس کے درجہ کو تحقیر کی نظر سے نہ دیکھ کہ رسولوں نے اس کے زمانے پر ناز کیا ہے (الهام حضرت اقدس) مشاہدہ کریں کہ کلام الہی کی کیسی عظمت وشان ہے کہ دوا شعار میں آپ کا روحانی مقام اور اس کا موجب اور باعث بھی بیان کر دیا یعنی مسلماں را مسلمان باز کردند اور اس خدمت گزاری کے صلے میں آپ کا روحانی منصب اور مقام بھی عطا فر مایا فرمایا مقام او مبین از راه تحقیر بدورانش رسولاں ناز کردند اس فرمانِ خداوندی کی روشنی میں اگر ہم یہ کہیں کہ حضرت اقدس کا تمام کلام مسلماں را مسلماں باز کردند ہی کی غرض سے صادر ہوا ہے تو یقیناً درست ہوگا کیونکہ امت مسلمہ کی اصلاح احوال دوطور سے ہی ہوسکتی تھی اول اِن میں محبت الہی کو زندہ کر کے اور دوم ان کے عقائد اور نظریات کی اصلاح کر کے۔اور یہی موضوعات آپ کے اشعار میں ہیں۔یعنی حمدوثنا میں خدا تعالی کا صحیح تصور بیان ہوا ہے نعت رسول میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور حقیقی منصب بیان ہوا ہے اور نعت قرآن میں تعلیم قرآن کی تعلیم کی عظمت بیان ہوئی ہے اور اسی طور سے دیگر موضوعات اسلام کی تعلیم کا صحیح تصور پیش کرتے ہیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس قطعہ کے دوسرے شعر مقام او میں از راه تحقیر بدورانش رسولاں ناز کردند اس کے مقام کوکم تر نہ سمجھو۔کیونکہ رسولوں نے اس کے زمانے پر ناز کیا ہے میں در حقیقت باری تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر وتعبیر بیان ہوئی ہے جیسا کہ الہام ہے۔جَريُّ الله في حُلل الانبياء“ جری اللہ نبیوں کے حلوں میں ( تذکرہ صفحہ 63 مطبوعہ 2004ء) آپ حضرت اپنے اس منصب کو کس قدر خوبصورتی سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: آدمم نیز احمد مختار اور برم جامیہ ہمہ ابرار میں آدم بھی ہوں اور احمد مختار بھی میرے جسم پر تمام ابرار کے خلعت ہیں