ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 435 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 435

435 ادب المسيح پیشگوئی کی تصدیق کے لیے وہی حدیث بطور وحی میرے پر نازل کی اور وحی کی رُو سے مجھ سے پہلے اس کا کوئی مصداق معتین نہ تھا اور خدا کی وحی نے مجھے معین کر دیا۔فالحمد للہ۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اور فرماتے ہیں کہ و آخرین منھم کے فرمان میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں اور یہ کہ بروزی رنگ میں آپ کا بار بار تشریف لا نا کوئی عار نہیں۔روحانی زندگی کے لحاظ سے ہم تمام نبیوں میں سے اعلیٰ درجے پر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ سمجھتے ہیں اور قرآن شریف کی آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ میں اس زندگی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اس کا یہی مطلب ہے کہ جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنھم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باطنی فیض پایا ایسا ہی آخری زمانہ میں ہوگا کہ مسیح موعود اور اس کی جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پائے گی جیسا کہ اب ظہور میں آرہا ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ی ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دُنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا اظہار بھی کریں اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ اور انبیاء کو اپنے بروز پر غیرت نہیں ہوتی کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہے لیکن دوسرے پر ضرور غیرت آتی ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ہم نے دانستہ طور پر آپ حضرت کے روحانی منصب اور مقام کے تعلق میں خدا تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ حضرت کی وحی کے مطابق جو فرمودات ہیں ان کو قدرے تفصیل سے پیش کیا ہے۔یہ اس لیے ہوا کہ آپ حضرت کے روحانی منصب اور مقام کی یہی اساس ہے۔دیگر تمام مناصب اسی فرمانِ خدا وندی اور حدیث رسول اکرم کے ذیل میں اور تفصیل میں ہیں۔ان تفصیلی مناقب میں سب سے اول تو ذیل کے دو الہامی اشعار ہیں کہ جن کے شاہانہ انداز اور حسن وخوبی کو بیان کرنا مشکل ہے۔چو دور خسروی آغاز کردند مسلماں را مسلمان باز کردند جب ہمارا شاہی زمانہ شروع ہوا تو مسلمانوں کو دوبارہ مسلمان کیا گیا