ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 434
ب المسيح 434 صدق اور یقین کی مانند ہو جائے گا اور حدیث صحیح میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر کے وقت سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا لَو كَانَ الإِيمَانُ مُعَلَّقًا بِالقُرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ یعنی اگر ایمان ثریا پر یعنی آسمان پر بھی اُٹھ گیا ہو گا تب بھی ایک آدمی فارسی الاصل اُس کو واپس لائے گا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ ایک شخص آخری زمانہ میں فارسی الاصل پید ا ہو گا۔اس زمانہ میں جس کی نسبت لکھا گیا ہے کہ قرآن آسمان پر اُٹھایا جائے گا۔یہی وہ زمانہ ہے جو سیح موعود کا زمانہ ہے اور یہ فارسی الاصل وہی ہے جس کا نام سیح موعود ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) دوسرے مقام پر اپنے دعویٰ مسیحیت اور مہدویت کے بارے میں فرماتے ہیں: اور آیت آخرین منھم میں بھی اشارہ ہے کہ جیسا کہ یہ جماعت مسیح موعود کی صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مشابہ ہے ایسا ہی جو شخص اس جماعت کا امام ہے وہ بھی ظلمی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتا ہے جیسا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی موعود کی صفت فرمائی کہ وہ آپ سے مشابہ ہوگا اور دو مشابہتیں اُس کے وجود میں ہوں گی ایک مشابہت حضرت مسیح علیہ السلام سے جس کی وجہ سے وہ مسیح کہلائے گا اور دوسری مشابہت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس کی وجہ سے وہ مہدی کہلائے گا۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اور فرماتے ہیں کہ قرآن کریم اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق آپ حضرت کو ان پیشگوئیوں کا مصداق بنا دیا۔فرماتے ہیں: خدا کے کلام میں یہ امر قرار یافتہ تھا کہ دوسرا حصہ اس امت کا وہ ہوگا جو مسیح موعود کی جماعت ہوگی۔اسی لیے خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو دوسروں سے علیحدہ کر کے بیان کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی اُمت محمدیہ میں سے ایک اور فرقہ بھی ہے جو بعد میں آخری زمانہ میں آنے والے ہیں اور حدیث صحیح میں ہے کہ اس آیت کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان فارسی کی پشت پر مارا اور فرمایا لَو كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ فَارِس اور میری نسبت پیشگوئی تھی جیسا کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس