ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 427 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 427

427 ادب المسيح ور مرا از بندگانت یافتی قبلة من آستانت یافتی لیکن اگر تو نے مجھے اپنا فرمانبردار پایا ہے اور اپنی بارگاہ کو میرا قبلہ مقصود پایا ہے در دل من آں محبت دیده کز جہاں آں راز را پوشیده اور میرے دل میں وہ محبت دیکھی ہے جس کا بھید تو نے دنیا سے پوشیدہ رکھا ہے با من از روئے محبت کار گن اند کے افشائے آں اسرار گن! تو محبت کی رُو سے مجھ سے پیش آ۔اور اُن اسرار کو تھوڑا سا ظاہر کردے خود پروں آ از پئے ابراء من اے تو کہف وملجاً و مأوائے من تو آپ میری بریت کے لیے باہر نکل۔تو ہی میرا حصار ااور جائے پناہ ہے اور ٹھکانا ہے اور فرماتے ہیں کہ ایسا کر کہ اس اندھی دنیا کی آنکھ کھول دے اور اے سخت گیر خدا اپنا زور دکھا چشم بکشا ایس جہان کور را اے شدید البطش بنما زور را اس اندھی دنیا کی آنکھیں کھول اور اے سخت گیر خدا تو اپنا زور دکھا جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ ایسی مناجات کی مثال کسی کلام میں نہیں ہوگی کیونکہ اس کی تخلیق کے لیے ایک صادق مرسل خدا ہونا ضروری ہے جس کو اپنے صدق پر کامل یقین ہو۔ایک اور بات جو اس مناجات اور یکطرفہ مباہلہ سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی مناجات باری تعالٰی کی جناب میں قبول ہوئی ہے اور یہ کہ آپ خدا تعالیٰ کے بچے مرسل تھے۔کیونکہ آپ نے اللہ کی جناب میں اپنی مدد اور تائید کو اپنی صداقت سے مشروط کیا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ آج آپ کی جماعت اور آپ کا پیغام اکناف میں پھیل چکا ہے اور آپ کے روحانی مقاصد میں برکت اور ترقی ہے اور آپ کے ماننے والوں کی تعدا در روز افزوں ترقی کر رہی ہے۔اگر ہم اس خیال کو حضرت اقدس کے اشعار میں بیان کریں تو ہم کہیں گے کہ اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کا مسیح موعود اور ان کی جماعت سے ایسی محبت اور عنایات کا سلوک آپ کے اشعار میں یوں بیان ہوا ہے۔یہ میرے ربّ سے میرے لیے ایک گواہ ہے یہ میرے صدق دعوای پر مہر الہ ہے میرے مسیح ہونے پہ یہ اک دلیل ہے میرے لیے یہ شاہد رب جلیل ہے پھر میرے بعد اوروں کی ہے انتظار کیا توبہ کرو کہ جینے کا ہے اعتبار کیا اور حضرت اقدس کے اپنے اشعار میں خدا تعالیٰ کے فضل و احساں کا ذکر بھی سُن لیں اور یہ کہ آپ حضرت