ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 407
407 ادب المسيح جس کا جی چاہے کرے اس داغ سے وہ تن فگار کام کیا عزت سے ہم کو شہرتوں سے کیا غرض گروہ ذلت سے ہو راضی اُس پر سو عزت شار ہم اُسی کے ہوگئے ہیں جو ہمارا ہو گیا چھوڑ کر دُنیائے دُوں کو ہم نے پایا وہ نگار دیکھتا ہوں اپنے دل کو عرش رب العالمیں قرب اتنا بڑھ گیا جس سے ہے اُترا مجھ میں یار اور اس مضمون میں ایک بہت پیارے انداز میں کی گئی نصیحت کو بھی سن لیں۔بہت ہی سادہ مؤثر اور دلفریب کلام ہے۔فرماتے ہیں: اے دوستو پیارو! عقبی کو مت پسارو کچھ زادِ راہ لے لو، کچھ کام میں گزارو دُنیا ہے جائے فانی دل سے اسے اُتارو یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي جی مت لگاؤ اس سے دل کو چھڑاؤ اس۔فارسی میں فرماتے ہیں : ޏ رغبت ہٹاؤ اس سے بس دُور جاؤ اس سے یارو ! بید اثر دھا ہے جاں کو بچاؤ اس سے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي سرت عیش دنیائے دُوں دے چند ست آخرش کار با خداوند اس ذلیل دُنیا کا عیش چند روزہ ہے بالآخر خدا تعالے سے ہی کام پڑتا ہے ایس سرائے زوال و موت و فناست ہر کہ بنشست اندرین برخاست یہ دُنیا زوال موت اور فنا کی سرائے ہے جو بھی یہاں رہا وہ آخر رخصت ہوا