ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 363
363 ادب المسيح محبت الہی کا بیان فارسی اشعار میں بہت مرتبہ کہا جا چکا ہے کہ فارسی زبان کا مزاج روحانی ہے۔اس لیے ان مضامین کے بیان کرنے کی اس میں صلاحیت بھی ہے اور مناسبت بھی۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے پیارے حضرت اقدس مسیح موعود کا فارسی کلام محبت الہی کے اظہار سے بھر پور ہے اور اس قدر بھر پور ہے کہ اس لالہ زار سے چند ایک پھولوں کا انتخاب کرنا بہت مشکل ہے۔اس کوشش میں کہ انتخاب کی خوبی قائم رہے اور اختصار کا نقص بھی ظاہر نہ ہو ہم نے آپ کی طویل نظموں میں سے صرف محبت الہی کے اشعار کو اختیار کیا ہے۔اول قدم پر ہم خدا تعالیٰ کے فرمان اَلَستُ بِرَبِّكُمُ قَالُوا بَلی کے اتباع میں حضرت کا وہ کلام پیش کرتے ہیں جو اس مضمون کو بیان کر رہا ہے کہ محبت الہی انسان کی فطرت میں ہے۔بہت ہی خوبصورت اور محبت بھرا کلام ہے۔فرماتے ہیں: چهره دکھلا دیا حمد و شکر آں خدائے کردگار کز وجودش هر وجودے آشکار اس خدائے کردگار کی حمد اور شکر واجب ہے جس کے وجود سے ہر چیز کا وجود ظاہر ہوا ایں جہاں آئینہ دار روئے اُو ذره ذره ره نماید سوئے اُو یہ جہان اس کے چہرے کے لیے آئینہ کی طرح ہے ذرہ ذرہ اُسی کی طرف راستہ دکھاتا ہے کرد در آئینه ارض و سما آں رُخ بے مثل خود جلوہ نما اس نے زمین و آسمان کے آئینہ میں اپنا بے مثل ہر گیا ہے عارف بنگاه او شاف نماید راه او دست ہر گھاس کا ہر پتہ اس کے کون ومکان کی معرفت رکھتا ہے اور درختوں کی ہر شاخ اُسی کا راستہ دکھاتی ہے تُورِ مُهر و مه زِ فیضِ نُورِ اوست ہر ظہورے تابع منشور اوست چاند اور سورج کی روشنی اُسی کے نور کا فیضان ہے ہر چیز کا ظہور اسی کے شاہی فرمان کے ماتحت ہوتا ہے ہر قدم جوید در باجاه او ہر سر اُس کے اسرار خانہ کا ایک بھید ہے اور ہر قدم اُسی کا باعظمت دروازہ تلاش کرتا ہے ہر سرے بڑے ز خلوت گاہ او