ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 361
361 ادب المسيح باغ میں تیری محبت کے عجب دیکھے ہیں پھل ملتے ہیں مشکل سے ایسے سیب اور ایسے انار تیرے بن اے میری جاں یہ زندگی کیا خاک ہے ایسے جینے سے تو بہتر مر کے ہوجانا غبار فقر کی منزل کا ہے اوّل قدم نفی وجود ذیل کے شعر میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے۔فرماتے ہیں۔اسلام چیز کیا ہے؟ خدا کے لیے فنا ترک رضائے خویش ہے مرضی خدا جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس رہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات اور عاشقانِ باری تعالیٰ کی علامات اور صفات بھی سن لیں۔خُدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اُس پر بنار اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب که راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب؟ اُسے دے چکے مال چکے مال و جان بار بار ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار لگاتے ہیں دل اپنا اُس پاک ނ و ہی پاک جاتے ہیں اس خاک سے اور آخر پر ایک تلقین عام ہے کہ محبت کے قابل صرف ایک ہی ہستی ہے اور اگر کہیں وفا ہے تو اُسی محبوب حقیقی میں ہے۔فرماتے ہیں: وہ دیکھتا ہے غیروں سے کیوں دل لگاتے ہو جو کچھ بتوں میں پاتے ہو اس میں وہ کیا نہیں