ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 351
351 ادب المسيح اور اسی طور سے تمام انبیاء اور مرسلین کی تعلیم وتربیت محبت الہی کے حصول کے محور کے گرد ہی طواف کرتی ہے۔محبت الہی کا یہی مقام ہے جس کو حاصل کرنے کی تلقین آپ حضرت کسقدرخوبصورتی اور صدق سے بیان کر رہے ہیں۔فرماتے ہیں: کبھی نصرت نہیں ملتی در مولی سے گندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو و ہی اُس کے مقرب ہیں جو اپنا آپ کھوتے ہیں نہیں رہ اُس کی عالی بارگہ تک خود پسندوں کو یہی تدبیر ہے پیارو کہ مانگو اُس سے قربت کو اُسی کے ہاتھ کو ڈھونڈو جلا ؤ سب کمندوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر تو اللہ تعالیٰ نے محبت الہی کا جذ بہ قلب میں ہونے کو آپ کی رسالت پر ایمان لانے کے لئے ایک شرط کے طور پر قائم کر دیا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ خدا تم سے محبت کرے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرو کیونکہ قُل إن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبُكُمُ الله (ال عمران:32) کے فرمان میں یہ بات مضمر ہے کہ اگر ایسا نہیں تو تمہارا یہ حال ہوگا کہ وَتَريهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ (الاعراف : 199) حضرت اقدس اس فرمان کی کس قدر خوبصورت تفسیر فرماتے ہیں۔اس کا مرنا اور جینا اپنے لیے نہیں بلکہ خدا ہی کے لیے ہو جائے تب وہ خدا جو ہمیشہ سے پیار کرنے والوں کے ساتھ پیار کرتا آیا ہے اپنی محبت کو اس پر اتارتا ہے اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے اندر ایک نور پیدا ہوتا ہے جس کو دنیا نہیں پہچانتی اور نہ سمجھ سکتی ہے اور ہزاروں صدیقوں اور برگزیدوں کا اسی لیے خون ہوا کہ دنیا نے ان کو نہیں پہچانا وہ اسی لیے مکار اور خود غرض کہلائے کہ دنیا ان کے نورانی چہرہ کو دیکھ نہ سکی جیسا کہ فرمایا يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُنصرون یعنی وہ جو منکر ہیں تیری طرف دیکھتے تو ہیں مگر تو انہیں نظر نہیں آتا۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت)