ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 349
349 ادب المسيح جو برباد ہونا کرے کرے اختیار خُدا کے لیے ہے وہی بختیار جو اُس کے لیے کھوتے ہیں پاتے ہیں جو مرتے ہیں وہ زندہ ہو جاتے ہیں آپ حضرت محبت کے لفظ کے معانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اور اس سوال کی تیسری جزیہ ہے کہ قرآن شریف میں یہ کہاں لکھا ہے کہ انسان انسان کے ساتھ محبت کرے۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے اس جگہ بجائے محبت کے رحم اور ہمدردی کا لفظ لیا ہے کیونکہ محبت کا انتہا عبادت ہے اس لئے محبت کا لفظ حقیقی طور پر خدا سے خاص ہے۔اور نوع انسان کے لئے بجائے محبت کے خدا کے کلام میں رحم اور احسان کا لفظ آیا ہے کیونکہ کمال محبت پرستش کو چاہتا ہے اور کمال رحم ہمدردی کو چاہتا ہے۔اس فرق کو غیر قوموں نے نہیں سمجھا۔اور خدا کا حق غیروں کو دیا۔میں یقین نہیں رکھتا کہ یسوع کے منہ سے ایسا مشرکانہ لفظ نکلا ہو۔بلکہ میرا گمان ہے کہ پیچھے سے یہ مکروہ الفاظ انجیلوں میں ملا دیئے گئے ہیں۔محبت کا لفظ جہاں کہیں باہم انسانوں کی نسبت آیا بھی ہو اس سے در حقیقت حقیقی محبت مراد نہیں بلکہ اسلامی تعلیم کی رو سے حقیقی محبت صرف خدا سے خاص ہے۔اور دوسری محبتیں غیر حقیقی اور مجازی طور پر ہیں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اس محبت کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے جو راہنمائی فرمائی ہے۔اُس کے لیے اول یہ فرمان قرآن ہے۔قُلْ إنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبَكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمُ (ال عمران: 32) ترجمه از حضرت اقدس : ان کو کہہ دو کہ تم اگر چاہتے ہو کہ محبوب الہی بن جاؤ اور تمہارے گناہ بخش دیئے جاویں تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اطاعت کرو۔اور فرماتے ہیں: اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں گم ہو جاوے اور آپ کی اطاعت اور پیروی میں ہر قسم کی موت اپنی جان پر وارد کر لے اس کو وہ نور ایمان۔محبت اور عشق دیا جاتا ہے جو غیر اللہ سے رہائی دلا دیتا ہے۔اور گناہوں سے رستگاری اور نجات کو موجب ہوتا ہے۔اسی