ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 312 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 312

المسيح 312 خواہاں ہیں سوان کو خدا کی ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے اور سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے: ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا التَّوْرَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَةً أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ حضرت اقدس اس فرمان کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (الاعراف: 158) پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے۔اور اپنی شمولیت کے ساتھ اس کو قوت دیں گے اور اس نور کی مدد کریں گے جو اس کے ساتھ اتارا گیا وہ دنیا اور آخرت کی مشکلات سے نجات پائیں گے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ہدایت ہمارے نزدیک قرآن کریم میں اس کتاب کی عظمت و شان کے بیان میں عمومی طور پر جو حقیقی صفت بیان ہوئی ہے وہ ہدایت ہے۔یعنی قرآن کریم کو ایک ہدایت کہا گیا ہے۔ہم دو بنیادی اور اصولی فرمودات پیش کرتے ہیں۔قرآنِ کریم نے اول قدم پر اپنی صفات میں صفت ہدایت کو پیش کیا ہے اور حضرت اقدس نے اس صفت کو قرآن کی علت غائی قرار دیا ہے۔الم ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ (البقرة : 32) حضرت اقدس فرماتے ہیں: الله جل شانہ نے قرآن کریم کے نزول کی علت عالَى هُدًى لِلْمُتَّقِينَ قرار دی ہے اور قرآن کریم سے رشد اور ہدایت اور فیض حاصل کرنے والے با تخصیص متقیوں کو ہی ٹھہرایا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے الم ذلك الكتب لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ - ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: اور ان آیات میں جو معرفت کا نکتہ مخفی ہے وہ یہ ہے کہ آیات ممدوحہ بالا میں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ الم ذَلِكَ الْكِتُبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی یہ وہ کتاب ہے جو خدا تعالیٰ کے علم سے ظہور پذیر ہوئی ہے اور چونکہ اُس کا علم جہل اور نسیان سے پاک ہے اس