ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 274
المسيح 274 اگر خواهی که حق گوید ثنایت بشو از دل ثنا خوان محمد اگر تو چاہتا ہے کہ خدا تیری تعریف کرے تو تہ دل سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مدح خواں بن جا محمد اگر خواہی دلیلے عاشقش باش محمد بست برہان اگر تو اس کی سچائی کی دلیل چاہتا ہے تو اس کا عاشق بن جا کیونکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہی خودمحمد کی دلیل ہے آپ کے عشق رسول کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے بھی یہ شعر تخلیق فرما کر الہام کیا۔از تیغ بران محمد الا اے دشمن نادان و بے راہ بترس اے نادان اور گمراہ دشمن ہوشیار ہوجا اور محمد کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر ره مولی که گم کردند کردند مردم بجو در آل و اعوان محمد خدا کے اس راستہ کو جسے لوگوں نے بھلا دیا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آل اور انصار میں ڈھونڈھ الا اے منکر از شان محمد هم از نور نمایان محمد خبر دار ہو جا ! اے وہ شخص جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نیز محمد کے چمکتے ہوئے نور کا منکر ہے کرامت گرچه بے نام و نشان است بیا بنگر ز ن غلمان محمد اگر چه کرامت اب مفقود ہے۔مگر تو آ اور اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں دیکھ لے ایک لاجواب قطعہ فَاتَّبِعُونِي يُحْسِبُكُمُ الله کے فرمان کے مطابق مشاہدہ کریں۔محمد است امام و چراغ ہر دو جہاں محمد است فروزنده زمین و زمان محمد ہی دونوں جہانوں کا امام اور چراغ ہے محمد ہی زمین و زماں کا روشن کرنے والا ہے خدا نگونمش از ترس حق مگر بخدا خدا نماست وجودش برائے عالمیاں میں خوف خدا کی وجہ سے اُسے خدا تو نہیں کہتا مگر خدا کی قسم اس کا وجود اہل جہان کے لیے خدا نما ہے اور آخر پر عشق رسول اکرم کے اظہار میں چند نہایت درجہ خوبصورت اور دل ہلا دینے والے اشعار کا مشاہدہ کریں۔فرماتے ہیں۔بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم خدا کے بعد میں محمد کے عشق میں سرشار ہوں۔اگر یہی کفر ہے تو بخدا میں سخت کافر ہوں ہر تاروپود من بسراید بعشق أو از خود تهی و از غم آن دلستاں پُرم میرے رگ وریشہ میں اُس کا عشق رچ گیا ہے میں اپنی خواہشات سے خالی اور اس معشوق کے غم سے پُر ہوں