ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 269
269 ادب المسيح وقت اس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ تم کو بڑے بڑے منافع پہنچیں“۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) خواجه و مر عاجزان را بنده بادشاه و بیکساں را چاکرے وہ اگر چہ آتا ہے مگر کمزوروں کا غلام ہے۔وہ بادشاہ ہے مگر بیکسوں کا چاکر ہے آں ترحمها که خلق از وے بدید کس ندیده در جہاں از مادرے وہ مہربانیاں جو مخلوق نے اُس سے دیکھیں۔وہ کسی نے اپنی ماں میں بھی نہیں پائیں۔از شراب شوق جاناں بیخودی در سرش بر خاک بنہادہ سرے وہ محبوب کے عشق کی شراب میں بیخود ہے اُس کی محبت میں اُس نے اپنا سر خاک پر رکھا ہوا ہے روشنی از وے بہر قومی رسید تور أو رشید بر هر کشوری اُس ہر کو روشنی پہنچی۔اُس کا نور قوم آیت رحمان برائے ہر بصیر ہر ملک پر چپکا حجت حق بہر ہر دیدہ ورے وہ ہر صاحب بصیرت کے لئے آیت اللہ اور ہر اہل نظر کے لیے حجت حق ہے ناتواناں را برحمت دستگیر خستہ جاناں را به شفقت غمخورے کمزوروں کا رحمت کے ساتھ ہاتھ پکڑنے والا اور ناامیدوں کا شفقت کے ساتھ غم خوار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت کے اظہار میں فرماتے ہیں: گرفتد کس را برآں خوش پیکرے یک نظر بہتر ز عمر جاوداں ہمیشہ کی زندگی سے ایک نظر بہتر ہے اگر اُس پیکرِ حُسن پر پڑ جائے منکه از حسنش ہے دارم خبر جاں فشانم گر وہر دل دیگرے میں جو اُس کے حسن سے باخبر ہوں اُس پر اپنی جان قربان کرتا ہوں جبکہ دوسرا صرف دل دیتا ہے یاد آن صورت مرا از خود برد ہر زمان مستم کند از ساغری اُس کی یاد مجھے بیخود بنا دیتی ہے۔وہ ہر وقت مجھے ایک ساغر سے مست رکھتا ہے پریدم سوئے کوئے او مدام من اگر مے داشتم بال و پرے میں ہمیشہ اُس کے کوچہ میں اُڑتا پھرتا اگر میں پر و بال رکھتا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کے منصب کو بیان کر کے اپنا سلام پیش کرتے ہیں۔