ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 184 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 184

المسيح 184 محور وئے اوشد است ایں روئے من بوئے او آید زبام و گوئے من یہ میرا چہرہ اُس کے چہرہ میں محو اور گم ہو گیا اور میرے مکان اور کو چہ سے اُسی کی خوشبو آرہی ہے بسکه من در عشق او هستم نہاں من ہمانم من ہمانم۔من ہماں - از بسکہ میں اُس کے عشق میں غائب ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں جان من از جان او يابد غذا از گریبانم عیاں شد آں ذکا! میری روح اُس کی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گریہاں سے وہی سورج نکل آیا ہے احمد اندر جان احمد شد پدید اسم من گردید آں اسم وحید احمد کی جان کے اندراحمد ظاہر ہو گیا اس لیے میرا وہی نام ہو گیا جو اس لاثانی انسان کا نام ہے اب دیکھ لیں اول مقام پر تو حضرت اقدس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل ہم رنگ اور اُن میں محو وفتا ہونے کو کس طور سے بیان فرما رہے ہیں۔فرماتے ہیں کہ آپ کا آنحضرت سے اسقدر قرب اور تعلق ہے کہ گویا آنحضرت اور آپ ایک ہی وجود ہو گئے ہیں۔اس وجہ سے آپ کے گریبان سے آنحضرت کے نور کا سورج طلوع ہوا ہے۔یہاں پر گریبان کے کیا معنی کرینگے ؟ یہی کہ آپ کے دل و جان میں آنحضرت کا نور سرایت کر گیا ہے۔یہی مضمون ذیل کے اشعار میں بھی بیان ہوا ہے کہ انبیاء خدا کی محبت اور پرستش میں اس قدر گم ہوتے ہیں کہ وہ خدائی صفات کے حامل ہو جاتے ہیں۔فرماتے ہیں: ہمچنیں مے داں مقام انبیاء واصلان و فاصلال از ماسواء انبیاء کے مقام کی بھی یہی مثال سمجھ۔وہ واصل باللہ ہیں اور اس کے غیر سے بے تعلق فانی اند و آله ربانی اند نُورِ حق در جامعه انسانی اند! فنا فی اللہ ہیں اور خدا کا ہتھیار ہیں۔انسانی جامہ میں خدا کا نور ہیں سخت نہاں در قباب حضرت اند گم ز خود در رنگ و آب حضرت اند بارگاہ الہی کے گنبد میں بالکل مخفی ہیں خودی سے الگ ہو کر خدائی رنگ و روپ میں زندگی بسر کرتے ہیں وہ اس مقام کی کیفیت کے بیان میں فرمایا ہے نور حق داریم زیر چادرے از گریبانم برآمد دلبری ہماری چادر کے اندر خدا کا نور ہے وہ دلبر میرے گریبان میں سے نکلا ہے