ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 182 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 182

ب المسيح 182 قرۃ العین طاہرہ کہتی ہے کہ عشق میں اس کا ہر لمحہ ہزاروں وادی کر بلا کے مانند ہے۔متظاهر است زہر دے دو ہزار وادی کربلا مشاہدہ کریں ایک وادی کر بلا نہیں بے شمار ہیں۔صد حسین است در گریبانم“ کے فرمان پر غور کریں۔فارسی زبان میں اور اردو میں بھی گریبان، قمیص کے اس حصے کو کہتے ہیں جو گردن کے نیچے ہوتا ہے فارسی میں اس لفظ کو مرکب سمجھتے ہیں یعنی گرے، بمعنی گردن اور ”بان بمعنی محافظ۔فارسی میں ” جیب“ کے لفظ کو بھی انہیں معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔اگر اس لفظ کے لغوی معنوں کو ہی اختیار کرنا ہے تو کیا یہ سمجھا جائے کہ آپ حضرت کی قمیص کے بالائی حصہ میں سوحسین قیام فرما ہیں۔شاید اس قسم کے معانی کر کے شعری زبان سے نابلد احباب نے گذشتہ ایک صدی سے شور قیامت بپا کر رکھا ہے۔شعری زبان کا حد درجہ معمولی شعور رکھنے والا انسان بھی جانتا ہے کہ شعر میں اس لفظ کے معانی ” دل ہیں اور گریبان چاک کرنے کے معنے دلی جذبات کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔تیری میر تقی میر کی مثال کو دیکھ لیں۔کہتا ہے: اس نے کھینچا ہے میرے ہاتھ سے دامن اپنا کیا کروں ، گر نہ کروں چاک گریباں اپنا اس شعر میں دامن چھڑانا اور چاک گریبان کے کیا معنے ہونگے ؟ یہی کہ محبوب نے بے تعلقی کا اظہار کیا ہے تو میں دلی غم کا اظہار نہ کروں تو کیا کروں۔فارسی اور اردو شعراء میں ہر شاعر اپنا گریبان چاک کئے ہوئے ہے۔آپ سوئی دھاگہ لیکر کس کس کی بخیہ گری کریں گے بہتر ہے کہ اس کے علامتی معنوں کو قبول کر لیں۔علامت اور استعارے کے تعلق میں اس امر کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئیے کہ ہر صاحب منصب شاعر اپنے جذبات اور احساسات کے اظہار کے لیے چند الفاظ کو قبول کر کے ان کو علامت کے طور پر کئی معنوں میں بار بار اختیار کرتا ہے۔حضرت اقدس نے بھی گریبان کے لفظ کو صرف ایک بار استعمال نہیں کیا اور صرف حضرت حسین کے لیے