ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 177
ادب المسيح 177 ترجمہ: وہ کام جو میں کرتا ہوں اور اُن نشانوں سے جو میں دکھاتا ہوں یہی ظاہر ہوتا ہے کہ میرا سارا کاروبارخدا کی طرف سے ہے۔کٹوں کہ در چمن من ہزار گل بشگفت گر از طلب بنشینی عجب خطا باشد ترجمہ: اب جبکہ میرے چمن میں ہزاروں پھول کھل چکے ہیں اگر تو طلب نہ کرے تو سخت غلطی ہوگی اور اسی حیرت اور تعجب کے اظہار میں فرماتے ہیں: کیوں عجب کرتے ہوگر میں آ گیا ہو کر مسیح خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ بادِ بہار باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے بادِ صبا گلزار سے مستانہ وار قبل میں کہا گیا تھا کہ حضرت اقدس نے بہار کو متبائن اور متضاد معنوں میں بھی اختیار کیا ہے۔یعنی یہ کہ ”بہار اور خزاں دو متضاد المعانی الفاظ ہیں۔مگر آپ نے ان کے علامتی معنی کرتے ہوئے موسم خزاں میں بھی بہار کا نظارا کرا دیا اور بہت ہی خوب کروایا۔فرماتے ہیں۔بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں ملاحت ہے عجب اس دلستاں میں ہوئے بدنام ہم اس سے جہاں میں عد وجب بڑھ گیا شور وفغاں میں نہاں ہم ہو گئے یا رِ نہاں میں ہوا مجھ پر وہ ظاہر میرا ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي یعنی ”بہار کی آمد آپ کی آمد ہے اور آپ سے غفلت اور دوری خزاں ہے مگر اس کے باوجود اس وقت خزاں میں بھی اللہ نے ہزاروں عاشقانِ الہی پھولوں کی طرح سے آپ کے دامن میں ڈال دیئے ہیں انہی معنوں میں ایک اور مقام پر فرماتے ہیں : ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آمرےاے ناخدا آگیا اس قوم پر وقت خزاں اندر بہار པོ