ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 139 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 139

طور پر اختیار فرمائے۔139 ادب المسيح حضرت اقدس کو نشان کے طور پر زلزلوں کی تباہ کاریوں کی اطلاع دینے کی غرض سے الہام ہوا عفت الديار محلها و مقامها یہ حضرت لبیڈ کے معلقے کا اول مصرع ہے۔( تذکرہ صفحہ 556۔مطبوعہ 2004ء) آپ حضرت اس مصرع کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں عَفتِ الذِيَارُ مَحِلُّهَا وَ مَقَامُهَا بمنی تابد غولها فرجامها اس کے معنے ہیں کہ میرے پیاروں کے گھر منہدم ہو گئے۔ان عمارتوں کا نام ونشان نہ رہا جو عارضی سکونت کی عمارتیں تھیں اور نہ وہ عمارتیں رہیں جو مستقل سکونت کی عمارتیں تھیں۔دونوں قسم کی عمارتیں نابود ہوگئیں اور دوسرا الہامی مصرع بھی اسی قصیدے کا ہے انَّ المَنَايَا لَا تَطيش سِهَامُها ترجمہ : موتوں کے تیر خطا نہیں جاتے تذکرہ صفحہ 573۔مطبوعہ 2004ء) فرماتے ہیں۔” تب میں نے کشفی حالت میں ہی یہ دعا کی کہ اے خدا تو ہر چیز پر قادر ہے۔تب الا ہوا إِنَّ المَنَايَاقَد تَطيش سِهَامُها ، یعنی موتوں کے تیر خطا بھی جاتے ہیں۔مشاہدہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے لبید کے مصرعے میں ایک خبر دی اور اُسی کے مصرعے کی اصلاح کر کے منذ ر واقعہ کو معدوم کر دیا یہ اصلاح اس اعتبار سے بھی معتبر ہے کہ لبید کو خدا تعالیٰ کے قادر ہونے پر وہ یقین نہیں تھا جو حضرت اقدس کو تھا۔یعنی یہ کہ تیر اسی صورت میں نشانے پر لگتا ہے جب خدا کا منشا ہو۔معلقات کے شعراء میں اس افتخار کے بارے میں حضرت اقدس کے فرمان کوسُن لیں۔فرماتے ہیں۔اب یا در ہے کہ وحی الہی یعنی عفت الديار محلها و مقامها یہ وہ کلام ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے خدا تعالیٰ نے لبید بن ربیعہ العامری کے دل میں ڈالا تھا جو اُس کے اس قصیدہ کا اوّل مصرع ہے جو سبعہ معلقہ کا چوتھا قصیدہ ہے اور لبید نے زمانہ اسلام کا پایا تھا اور مشرف باسلام ہو گیا تھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم میں داخل تھا اس لیے خدا تعالیٰ نے اس کے کلام کو یہ عزت دی کہ جو آخری زمانہ کی نسبت ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی کہ ایسی ایسی تباہیاں ہونگی جن سے ایک ملک تباہ ہوگا وہ اُسی کے مصرع کے الفاظ میں بطور وحی فرمائی گئی جو اس کے منہ سے نکلی تھی۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، رخ۔جلد 21 صفحہ 162 )