ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 135 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 135

135 ادب المسيح اسلوب پر نازل کرنا پسند فرمایا اور اس سے بہت بہتر کلام نازل کیا اور ادبا عرب کو فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ “ کی دعوت مقابلہ دی مگر مثله “ کی شرط لگا کر واضح کر دیا کہ موضوعات شعر بھی وہی ہوں جو کہ قرآن کریم کے ہیں۔قرآن کریم کے واضح فرمان کے تحت ہی ہمارے آقا اور مطاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ” جوامع الکلم عطا کیے گئے اور آپ کو افصح العرب‘ کا منصب عطا فر مایا گیا۔ہمارے پیارے امام حضرت مسیح موعود کا کلام عربی بھی اسی فرمان قرآن کریم کے اتباع میں ہے یعنی اس طور سے کہ اسلوب ادب کو قائم رکھا گیا مگر جاہلیہ کے شعر کے موضوعات اور شیح نظر کو بدل کر ان کا رخ تبدیل کر دیا اور ان کی شاہ سواری اور شجاعت کو اخلاق حسنہ میں مبارزت کو محبوب حقیقی کے قرب اور اس کی لقا میں اور اس کے لیے جان فدا کرنے کو اپنے شعر کی ترجیحات بنالیا۔جیسا کہ آپ اپنے پیارے خدا کو مخاطب کر کے عرض کر رہے ہیں۔أنْتَ الَّذِي قَدْ كَانَ مَقْصِدَ مُهْجَتِي فِي كُلِّ رَشْحِ الْقَلَمِ وَ الْإِمَلاءِ ترجمہ: تو ہی تو میری جان کا مقصود تھا قلم کے ہر قطرہ ( روشنائی ) اور لکھائی ہوئی تحریر میں۔بیان یہ ہورہا تھا ادب عربیہ میں لبیڈ کے کہنے کے مطابق تین اصحاب معلقات افصح العرب ہیں۔حضرت اقدس نے بھی عمومی طور پر ان تین شعراء کے اسلوب میں شعر تخلیق فرمائے ہیں۔ان شعراء میں جیسا کہ اول امراؤ القیس کا قصیدہ ہے۔حضرت کے کلام میں بھی اس کے قصیدہ لامیہ کی جابجا جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ان کی امثال کو ملاحظہ کریں: ا۔امراؤ القیس اپنے گھوڑے کی تعریف میں کہتا ہے۔مِكَرٌ مِّفَةٍ مُقْبِل مُدْبِرٍ مَّعًا كَجَلْمُودِ صَخْرٍ حَطَّهُ السَّيْلُ مِنْ عَلِى ترجمہ: وہ گھوڑا بہت حملہ کرنے والا اور بہت بھاگنے والا اور آگے بڑھنے والا اور پیچھے ہٹنے والا ہے اور یہ سب ایک وقت میں کرتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی بھاری پتھر جسے رود ( سیلاب) نے اوپر سے نیچے کو گرا دیا ہو۔حضرت اقدس اپنے پیارے محبوب اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور شان میں فرماتے ہیں۔رءُوفٌ رَّحِيمٌ امر مانع معا بشیر نذير في الكروب مُبَشِّرُ ترجمہ: وہ بیک وقت مہربان ہے۔رحیم ہے اور امر و نہی کرنے والا ہے۔بشارت دینے والا۔انذار کرنے والا اور تکالیف میں خوشخبری دینے والا ہے۔