ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 116 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 116

ب المسيح 116 غزل ہم نے فارسی ادب میں حضرت اقدس کی عظمت کے اظہار کے لئے ایک قدیمی فارسی قطعہ کے بیان کے مطابق تین بنیادی اصناف شعر کے مسلمہ اساتذہ کے مقابل پر ان اصناف میں حضرت اقدس کے کلام کو پیش کرنے کا دستوراختیار کیا ہے۔یہ اصناف۔ابیات و قصیدہ اور غزل ہیں۔ابیات اور قصیدہ کا تقابلی موازنہ گذشتہ میں پیش کیا جا چکا ہے۔اس مقام پر فارسی غزل پر ایک مختصر اور طائرانہ نظر کی جائیگی۔جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ اردو اور فارسی شعر و ادب کا باوا آدم عربی قصیدہ ہے اور اس امر پر تمام محققین کا اتفاق ہے کہ غزل کی جدا گانہ صنف کی تخلیق اُن عشقیہ اشعار کی مرہون منت ہے جو عربی قصیدہ کی ابتدایا تمہید میں مرتب کئے جاتے ہیں جن کو تشبیب یا تنسیب کہتے ہیں۔ایرانی شعراء نے قصیدے کی تشبیب کو ایک مستقل صنف شعر کے طور پر اختیار کر لیا اور اس کو موضوع کی پاسداری میں غزل کا نام دیا اور اس صنف میں عظیم الشان ادبی شاہکار پیدا کئے۔معنوی اعتبار سے غزل کا موضوع محبوب مجازی کے حسن و جمال اور اس سے واردات عشق و محبت کا بیان ہے۔اس کے برعکس حضرت اقدس کا شعری موضوع تمام تر محبوب حقیقی کی عظمت و شان اور باری تعالیٰ کی محبت کے بیان میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ فارسی شعر کی اس صنف کو حضرت اقدس نے درخور اعتنا نہیں سمجھا اور غزل کے انداز میں آپ کی صرف چند ایک غزلیں ہیں اور وہ بھی بر ملا اور واضح طور پر عشق الہی کے بیان میں ہیں۔غزل کے عام طور پر اختیار نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ حضرت نے ان مضامین کو جو غزل میں بیان ہوتے ہیں۔دیگر اصناف شعر میں اس قدر حسن و خوبی سے بیان کیا ہے کہ آپ کو غزل کی ضرورت نہیں رہی۔آپ حضرت نے ابیات و قصیدہ اور نظم کی اصناف میں کمال حسن و جمال کیساتھ عشق الہی اور محبت الہی کے مضامین کو باندھا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ حضور کے اشعار کا عنوان کوئی بھی ہو آپ کی بات عشق الہی اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی ختم ہوتی ہے۔آپ ہی کا تو یہ فرمان ہے۔عاشق زار در ہمہ گفتار سخن خود کشد بجانب یار حقیقی عاشق اپنی تمام گفتگو میں اپنے کلام کو محبوب کی طرف پھیر لیتا ہے