ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 106
ب المسيح 106 حوالتم بفلک کرده اند روز نخست کنوں نظر بمتاع زمین چرا باشد جبکہ خدا نے مجھے روز اول سے آسمان کے حوالہ کر دیا ہے تو اب دنیاوی پونجی پر میری نظر کیونکر پڑسکتی ہے مرا که جنت علیاست مسکن و ماوی چرا بمز بلہ ایں نشیب جا باشد جب کہ میرا مسکن و ماویٰ جنت الفردوس ہے تو پھر میرا ٹھکانہ اس گڑھے کی گوڑی میں کیوں ہو البته سعدی کا قصیدہ جو خلافت عباسیہ کے زوال کے غم میں لکھا گیا ہے۔گو اپنے موضوع میں متحد نہیں۔مگر چند اعتبار سے باہم دگر تعلق رکھتا ہے۔اول یہ کہ حضرت اقدس نے سعدی کی زمین اور قافیہ کا اتباع کیا ہے اور دوم یہ کہ دونوں کو امت مسلمہ کی زبوں حالی کا غم ہے۔مگر فرق یہ ہے کہ سعد کی عباسی خلافت کی دنیوی شان و شوکت کے زوال کو امت مسلمہ کا زوال سمجھ کر اپنے غم کا اظہار کر رہے ہیں۔اور آپ حضرت ، سعدی کے جذبات غم و غصہ کا رخ موڑ کر یہ فرمار ہے ہیں کہ اسلام کا زوال دنیا کی جاہ و حشمت کے زوال سے نہیں ہوگا بلکہ اسلام کی حقیقی تعلیم کو بھلا کر اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور غیرت کے زوال سے ہوگا اوّل سعدی کا اقتباس مشاہدہ کریں۔آسماں راحق بودگر خوں ببارد برز میں برز وال ملک مستعصم امیر المومنین ترجمہ: امیر المومنین مستعصم باللہ ( خلیفہ بغداد) کی حکومت کے زوال پر اگر آسمان زمین پر خون کا مینہ برسائے تو بجا ہے ای محمد گر قیامت می براری سرز خاک سر برآورویں قیامت درمیان خلق ہیں اے رسول خدا اگر آپ قیامت میں قبر پاک سے سراٹھائیں گے تو اب اٹھائیے کیونکہ دنیا میں قیامت برپا ہوگئی ناز نینان حرم را موج خونِ بے دریغ ز آستاں بگذشت و مارا خونِ چشم از آستین حرم خلافت کے نازک انداموں کے خون کی موجیں آستانے سے باہر نکل گئیں اور اس غم میں ہماری آنکھوں کا خون آستین سے بہنے لگا۔زینهار از دور گیتی و انقلاب روزگار در خیال کس نہ گشتے کا نچناں گرد و چنیں گردشِ فلک اور انقلاب روزگار سے خدا کی پناہ! یہ بات کسی کے حاشیہ خیال میں بھی یہ تھی کہ اس عروج کا یوں زوال ہوگا۔دیده بردار اے کہ دیدی شوکت بیت الحرم قیصرانِ روم سر برخاک و خاقان برز میں اے شخص جس نے دربار خلافت کی شان و شوکت دیکھی ہوگی کہ قیصر وخا قان اسکی خاک پر سر رکھتے تھے اب آنکھ اٹھا کر یہ حال دیکھ۔