ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 95 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 95

95 ادب المسيح اثر هاست در گفتگو ہائے شاں چکد نور وحدت زِ رو ہائے شاں اُن کے کلام میں اثر ہوتا ہے اور اُن کے چہروں سے توحید کا نور ٹپکتا ہے در او شال به اظہار ہر خیر و شر نها دست حق خاصیت مستتر ان میں نیکی اور بدی کے اظہار کے لیے خدا تعالے نے مخفی خاصیت رکھ دی ہے بگفتن اگر چه خدا ولی از خدا هم جدا نیستند اگر چہ کہنے کو وہ خدا نہیں ہیں۔لیکن خدا سے جدا بھی نہیں ہیں کسے را که او ظل یزداں بود قیاسش بخود جهل و طغیاں بود جو شخص نیستند ہے خدا کا ظل ہو اس کو اپنے پر قیاس کرنا جہالت اور سرکشی فردوسی کے نمونہ کلام کے بارے میں تو چند لفظی تجزیہ بیان ہو چکا ہے مولانا رومی کے بیان میں بھی یہ بات عیاں ہے کہ اس میں کیفیات کے بیان میں تسلسل اور باہم ربط کا فقدان ہے اور شعری حسن و خوبی کے اجزا جن سے شعر میں حُسن و جمال پیدا ہوتا ہے نمودار نہیں ہوئے یہی وجہ ہے کہ باوجود روحانی موضوعات سے ذہنی مناسبت کے ان کا کلام ایک تکنیکی انداز کا ہے ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے ایک واعظ اور مدرس علمی اعتبار سے عاشقان الہی کا منصب بیان کر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس سلوک کی راہ میں قرآن کریم کو اول مقام دیتے ہیں اور تمام مسالک سلوک کو قرآن کریم کی تربیت کے تابع کرنا چاہتے ہیں اور بہت درد سے فرماتے ہیں۔دردا که حسن صورت فرقاں عیاں نماند آں خود عیاں مگر اثر عارفاں نماند افسوس ہے کہ قرآن کے چہرہ کا حسن ان پر ظاہر نہیں ہوا۔مگر واقعہ یہ ہے وہ تو ظاہر ہے مگر صاحب عرفان ختم ہو گئے ہیں اور بہت تاکید سے فرماتے ہیں کہ تمام دیگر آداب طریقت کو چھوڑ کر قرآن کریم کی تعلیم کو اختیار کرو۔جیسے فرمایا: بگذار ورد مثنوی وشغل غزل و شعر ایں خود چه چیز هست اگر قدر آں نماند مثنوی کے درد کو ترک کرو اور غزل و شعر میں مشغول نہ رہو ان کی اپنی ذات میں کوئی حیثیت نہیں اگر قرآن کی قدر نہ کی جائے مولانا رومی کے مقابل پر حضرت اقدس کے کلام کو مشاہدہ کریں یہاں معلوم ہوتا ہے کہ ایک عاشق صادق اپنی قلبی واردات اور مشاہدات کو بیان کر رہا ہے اور وہ تمام صفات جو واصل باللہ انسان میں عملی طور پر پیدا ہو جاتی ہیں ان کا ثبوت فراہم کر رہا ہے۔اس شعر کے حسن وخوبی کو دیکھیں۔فرماتے ہیں: بدنبال چشم چو مے بنگرند جہانے بدنبال خود می کشند جب وہ اپنی آنکھ کے کنارے سے نظر کرتے ہیں تو ایک جہان کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں