ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 87 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 87

87 ادب المسيح فارسی زبان میں ابلاغ رسالت تاریخی اعتبار سے اسلام کی آمد سے قبل فارسی زبان میں کوئی شعری سرمایہ محفوظ نہیں تھا۔گو یہ درست ہے کہ قدیم میں ایرانی ادب کے ترانے اور باربد کے راگ ادبی اشعار کے طور پر بولے جاتے تھے۔مگر ان میں آج کے وقت کی عربی بحور اور اوزان کا التزام نہیں رکھا جاتا تھا۔اسلام اور عربوں کے اقتدار میں آنے کے بعد دو اڑھائی سو سال گزرنے پر اغلبا مامون الرشید کے زمانے کے قرب وجوار میں فارسی شاعری نے عربی بحور اور قواعد عروض کو اختیار کیا تھا۔اور پھر ایسا قبول کیا کہ آج اسلامی ادب میں اس کا مقام فرن شعرا اور تخلیق شعر میں سب سے بلند ہے۔فارسی شاعری کی ابتدا کے بیان میں کہا جاتا ہے کہ جس طرح اردو شعر کا باوا آدم ولی دکنی ہے فارسی شعر کی ابتدا رودکی سے ہوئی ہے۔مگر رودکی کے بعد فارسی نے جس منصب کے بلند مرتبہ شاعر پیدا کئے ہیں۔ان کے مقابل کی تلاش دیگر زبانوں میں ممکن نہیں ہے۔فردوسی۔سعدی۔حافظ اور خیام اور اس سطح کے بہت سے اساتذہ کلام فارسی ہیں جنہوں نے اس زبان کو شعری عظمت دی ہے اور اس کی لسانی نوک پلک درست کر کے ایک کلاسیکی اسلوب شعر متعین کیا ہے۔فارسی ایک قدیمی اور مہذب زبان ہے۔اپنی قدامت اور تہذیب کے متعدد اور مختلف الانواع ادوار سے گزرنے کی وجہ سے اس زبان میں نازک احساسات اور فلسفیانہ خیالات کے بیان کرنے کی قدرت پیدا ہوگئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ نو ر رسالت کے حصول کے بعد اس زبان نے اپنے ادبی سمح نظر اور مقصود کو بہت جلد زمینی اور فنا پذیر اقدار حسن و جمال کی قید و بند سے نکال کر حسن کم یول (یعنی محبت الہیہ ) کے قدموں میں رکھ دیا تھا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لا تعداد عاشقانِ محبوب حقیقی نے اپنی واردات عشق و محبت کو بیان کرنے کے لیے اس زبان کا سہارا لیا ہے گویا یہ عشق ومحبت کے اظہار کی زبان ہے۔حضرت اقدس کے تینوں زبانوں کے ادب میں گو محبت الہی کا مضمون جاری وساری ہے مگر جس والہانہ انداز میں اور جس کثرت سے یہ مضمون آپ کے فارسی کلام میں ملتا ہے اس طور سے دیگر زبانوں میں نہیں ہے۔اردو اور فارسی ادب کے قابل قدرنقا دسید عابد علی عابد نے سچ کہا ہے کہ فارسی ادب کا مزاج روحانی ہے۔اس لیے بنیادی طور پر واردات قلبی کا حسین انداز میں بیان ہی فارسی ادب کے اسلوب کا جزو اعظم ہے۔فارسی ادب کی اس روایت کے مطابق ابوسعید ابوالخیر سے لے کر سنائی۔عطار۔مولانا رومی۔حافظ اور سعدی