ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 83 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 83

83 ادب المسيح اُن کے لیے تو بس ہے خدا کا یہی نشاں یعنی وہ فضل اُس کے جو مجھ پر ہیں ہر زماں دیکھو! خدا نے ایک جہاں کو جُھکا دیا! گم نام پاکے شہرۂ عالم بنا دیا! جو کچھ مری مراد تھی سب کچھ دکھا دیا میں اک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا کچھ ایسا فضل حضرت رب الوری ہوا سب دشمنوں کے دیکھ کے اوساں ہوئے خطا اک قطرہ اُس کے فضل نے دریا بنا دیا میں خاک تھا اُسی نے ثریا بنا دیا میں تھا غریب و بیکس و گم نام و بے ہنر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی اب دیکھتے ہو کیسا رجو ع جہاں ہوا اور فرماتے ہیں۔اک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا میں کیونکر گن سکوں تیری عنایات ترے فضلوں سے پر ہیں میرے دن رات مری خاطر دیکھائیں تو نے آیات ترتم سے مری سُن لی ہر اک بات کرم سے تیرے دشمن ہوگئے مات عطا کیں تو نے سب میری مُرادات پڑا پیچھے جو میرے غول بدذات پڑی آخر خود اس موذی پر آفات ہوا انجام سب کا نامرادی اور یہ فرمان بھی سُن لیں۔فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي اس تعصب پر نظر کر نا کہ میں اسلام پر ہوں فدا پھر بھی مجھے کہتے ہیں کافر بار بار میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار حضور اقدس کا منصب رسالت کا بیان بھی سن لیں۔مجھ کو خود اُس نے دیا ہے چشمہ توحید پاک تالگا وے از سر نو باغ دیں میں لالہ زار دوش پر میرے وہ چادر ہے کہ دی اُس یار نے پھر اگر مخدرت ہے، اے منکر تو یہ چادر اُتار خیرگی سے بدگمانی اس قدر اچھی نہیں اِن دِلوں میں جب کہ ہے شور قیامت آشکار ایک طوفاں ہے خُدا کے قہر کا اب جوش پر نوح کی کشتی میں جو بیٹھے وہی ہو رستگار