ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 437
کار ہائے کہ کرد با من یار وہ 437 ادب المسيح برتر آن دفتر است از اظهار ہ کام جو خدا نے میرے ساتھ کیے وہ اتنے زیادہ ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتے آنچه داد است هر نبی را جام داد آن جام را مرا بتمام جو جام اس نے ہر نبی کو عطا کیا تھا وہی جام اس نے کامل طور سے مجھے بھی دیا ہے اردو میں فرمایا: غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا اُسکے ہوئے ہم جاں نثار میں کبھی آدم کبھی موسی کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار اک شجر ہوں جسکو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پر میرا سب مدار مثیل انبیاء ہونا اور اُن کے عرفانِ باری تعالیٰ کا مکمل وارث ہونا ہی دراصل آپ کا منصب عالی ہے اور یہی وہ مقام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے جرى الله فِي حُلل الانبیاء “اور ” بدورانش رسولاں ناز کردند میں بیان کیا ہے۔یہاں اس حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ حضرت اقدس نے تاکید سے بیان کیا ہے کہ یہ مناصب آپ کو آپ کے آقا اور مطاع صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت اور وراثت میں ملے ہیں۔جیسے فرمایا ہے: انبیاء گرچه بوده اند بسے من بعرفان نه کمترم ز کسے اگرچہ انبیاء بہت ہوئے ہیں مگر میں معرفت الہی میں کسی سے کم نہیں ہوں وارث مصطفى شدم به یقیں شده رنگیں برنگِ یار حسیں میں یقیناً مصطفے کا وارث ہوں اور اس حسین محبوب کے رنگ میں رنگین ہوں اردو زبان میں فرماتے ہیں: آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے