ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 350 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 350

المسيح 350 دنیا میں وہ ایک پاک زندگی پاتا ہے۔اور نفسانی جوش و جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے نکال دیا جاتا ہے اس کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے اَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلى قَدَمِی یعنی میں وہ مُردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اور فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کے مراتب معلوم تھے اور ہریک کی نورانیت باطنی کا اندازہ اس قلب منور پر مکشوف تھا۔ہاں جو لوگ بیگا نہ ہیں۔وہ یگانہ حضرت احدیت کو شناخت نہیں کر سکتے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ (الاعراف: 199) یعنی وہ تیری طرف (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں۔پر تو انہیں نظر نہیں آتا۔(دیکھو تفسیر اقدس زیر آیت) آپ حضرت نے اس نثری فرمان کی تصدیق میں کتنا خوبصورت کلام پیش کیا ہے۔فرماتے ہیں: مصطفے پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اُس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے ربط ہے جانِ محمدؐ سے میری جاں کو مدام اور مزید فرماتے ہیں۔دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے روحانیت کے نشو ونما اور زندگی کے لئے صرف ایک ہی ذریعہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہے اور وہ اتباع رسول ہے۔قرآن شریف اگر کچھ بتاتا ہے تو یہ کہ خدا سے یوں محبت کرو۔اَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ کے مصداق بنو اور فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله پر عمل کرو ایسی فناء اتم تم پر آ جاوے کہ تَبَتَّلُ إِلَيْهِ تبیلا کے رنگ سے تم رنگین ہو جاؤ۔اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقدم کرلو۔(دیکھو تفسیر اقدس زیر آیت) یہی وہ فرمودات حضرت اقدس ہیں۔جن کی پر نور راہ نمائی میں ہم نے ابتدا ہی میں عرض کیا تھا کہ قرآن کریم کی تعلیم کا مقصد اعلیٰ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسی محبت کی جائے جو عبادت کا مقام رکھتی ہو اور جبکہ قرآن کریم کا یہ مقصد ہے تو پھر تمام صحف مقدسہ اسی مقصد کو لیکر نازل ہوئے ہیں کیونکہ قرآن کریم ان تمام صحف کا منتظم ہے