ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 341 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 341

341 ادب المسيح تَرَكُوا أَقَارِبَهُمْ وَحُبَّ عِيَالِهِمْ جَاءُ وُا رَسُولَ اللَّهِ كَالْفُقَرَاءِ انہوں نے اپنے اقارب کو اور عیال کی محبت کو بھی چھوڑ دیا اور رسول اللہ کے حضور میں فقراء کی طرح حاضر ہو گئے ذُبِحُوا وَ مَا خَافُوا الْوَرَى مِنْ صِدْقِهِمْ بَلُ اثَرُوا الرَّحْمَانَ عِنْدَ بَلَاءِ وہ ذبح کئے گئے اور اپنے صدق کی وجہ سے مخلوق سے نہ ڈرے بلکہ مصیبت کے وقت انھوں نے خدائے رحمان کو اختیار کیا تَحتَ السُّيُوفِ تَشَهَّدُوا لِخُلُوصِهِمُ شَهِدُوا بِصِدْقِ الْقَلْبِ فِي الْامَلَاءِ اپنے خلوص کی وجہ سے وہ تلواروں کے نیچے شہید ہو گئے اور مجالس میں انہوں نے صدق قلب سے گواہی دی حَضَرُوا الْمَوَاطِنَ كُلَّهَا مِنْ صِدْقِهِمْ حَفَدُوا لَهَا فِي حَرَّةٍ رَجُلَاءِ اپنے صدق کی وجہ سے وہ تمام میدانوں میں حاضر ہو گئے۔وہ ان میدانوں کی سنگلاخ سخت زمین میں جمع ہو گئے الصَّالِحُونَ الْخَاشِعُونَ لِرَبِّهِمْ الْبَاتِتُونَ بِذِكْرِهِ وَ بُكَاءِ وہ صالح تھے، اپنے رب کے حضور عاجزی کرنے والے تھے وہ اس کے ذکر میں رو رو کر راتیں گذانے والے تھے قَوْمٌ كِرَامٌ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَهُمْ كَانُوا لِخَيْرِ الرُّسُلِ كَالْأَعْضَاءِ وہ بزرگ لوگ ہیں۔ہم ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔وہ خیرالرسل کے لیے بمنزلہ اعضاء کے تھے مَا كَانَ طَعْنُ النَّاسِ فِيْهِمْ صَادِقًا بَلْ حَشْنةٌ نَشَاتْ مِنَ الْأَهْوَاءِ لوگوں کے طعن ان کے بارے میں بچے نہ تھے بلکہ وہ ایک کینہ ہے جو ہوا و ہوس سے پیدا ہوا ہے إِنِّي أَرى صَحِبَ الرَّسُول جَمِيعَهُمُ عِندَ المَلِيْكِ بِعِزَّةٍ فَعَسَاءِ میں رسول کے تمام کے تمام صحابہ کو خدا کے حضور میں دائمی عزت کے مقام پر پاتا ہوں تَبِعُوا الرَّسُولَ بِرَحْلِهِ وَثَوَاءِ صَارُوا بِسُبُلِ حَبِيْبِهِمْ كَعَفَاءِ انہوں نے رسول کی پیروی کی سفر اور حضر میں اور وہ اپنے حبیب کی راہوں میں خاک راہ ہو گئے نَهَضُوا لِنَصْرِ نَبِيِّنَا بِوَفَاءِ عِنْدَ الصَّلَالِ وَفِتْنَةٍ صَمَّاءِ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لئے وفاداروں کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے گمراہی اور سخت فتنہ کے وقت میں وَتَخَيَّرُوا لِلَّهِ كُلَّ مُصِيبَةٍ وَتَهَلَّلُوا بِالْقَتْلِ وَالْإِجَلَاءِ اور انہوں نے اللہ کی خاطر ہر مصیبت کو اختیار کر لیا اور قتل اور جلا وطنی کو بھی بخوشی قبول کر لیا اَنْوَارُهُمْ فَاقَتْ بَيَانَ مُبَيِّنٍ يَوَدُّ مِنْهَا وَجُهُ ذِي الشَّحْنَاءِ ان کے انوار بیان کرنے والے کے بیان سے بھی بالا ہو گئے۔کینہ ور کا چہرہ ان انوار کے مقابلہ میں سیاہ ہو رہا ہے