ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 311
311 ادب المسيح شفقت و نرمی و درشتی ہے۔سو اسی جگہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا کہ چراغ وحي فرقان اس شجرہ مبارک سے روشن کیا گیا ہے کہ نہ شرقی ہے نہ غربی۔یعنی طبیعت معتدلہ محمدیہ کے موافق نازل ہوا ہے جس میں نہ مزاج موسوی کی طرح درشتی ہے نہ مزاج عیسوی کی مانند نرمی۔بلکہ درشتی اور نرمی اور قہر اور لطف کا جامع ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت ) اور پھر بہت واضح طور پر فرماتے ہیں تمام انوار کامل ہونے کے بعد آنحضرت پر نور وحی الہی وارد ہوا۔نُورٌ عَلى نُور - نور فائض ہو انور پر (یعنی جب کہ وجو د مبارک حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں کئی نو ر جمع تھے۔سو اُن نوروں پر ایک نور آسمانی جو وحی الہی ہے وارد ہو گیا اور اُس نور کے وارد ہونے سے وجود باجود خاتم الانبیاء کا مجمع الانوار بن گیا۔پس اس میں یہ اشارہ فرمایا کہ نو روحی کے نازل ہونے کا یہی فلسفہ ہے کہ وہ نور پر ہی وارد ہوتا ہے تاریکی پر وارد نہیں ہوتا کیونکہ فیضان کیلئے مناسبت شرط ہے اور تاریکی کونور سے کچھ مناسبت نہیں بلکہ نور کو نور سے مناسبت ہے۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) ان فرمودات خداوندی اور تفسیر حضرت اقدس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اوّل: نور خدا تعالیٰ کی ہستی ہے۔دوم : اس نور کی تجلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئی۔سوم: آنحضرت پر نو روحی الہی یعنی قرآن کریم نازل ہوا۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللهِ نُورُ وَكِتُبٌ مُبِينٌ حضرت اقدس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: (المائدة : 16) قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور اور سراج منیر رکھا ہے جیسا فرمایا ہے قَدْ جَاء كُم مِنَ اللهِ نُورٌ وَكِتَبُ مُّبِينٌ (المائدة: 16) وَدَاعِيَّا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا منيرا (الاحزاب : (47) یہی حکمت ہے کہ نو روحی جس کے لیے نور فطرتی کا کامل اور عظیم الشان ہونا شرط ہے صرف انبیاء کو ملا اور انہیں سے مخصوص ہوا۔ظلمانی زمانہ کے تدارک کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے نور آتا ہے وہ نور اُس کا رسول اور اس کی کتاب ہے خدا اُس نور سے ان لوگوں کو راہ دکھلاتا ہے کہ جو اُس کی خوشنودی کے