ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 14
ب المسيح 14 کی خوبی کو ادب کہا گیا ہے۔چنانچہ آداب مہمان نوازی اور اکرام ضیف کو بھی ادب کہتے ہیں۔تعلیم و تدریس کے معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔یعنی ادیب معلم ہے اور ادب سے مراد تعلیم و تدریس ہے۔اس طور پر تمام علوم خواہ وہ معاشرتی ہوں یا سائنسی ان کا پڑھنا سیکھنا’ادب کے دائرے میں آجاتا ہے۔مگر ایک عرصہ گذرنے پر اصحاب علم و ادب نے یہ احساس کیا کہ اگر ادب کا دائرہ کار الفاظ اور ان کے معانی تک محدودر ہے تو لفظ کے معانی ہمیشہ ایک نہیں ہوتے۔لفظ کبھی تو اپنے حقیقی معنوں کو بیان کر رہا ہوتا ہے اور کبھی مجازی معنوں کو۔یعنی معانی مستعار کو جیسا کہ لفظ ”چاند ہے کہ حقیقی معنوں میں نظام شمسی کا ایک سیارہ ہے۔مگر مجازی معنوں میں محبوب یا دلپسند ہستی ہے۔اس شعور کی بناپر علمی اور ادبی دنیا نے معاشرتی اور سائنسی علوم کو علم کہا اختیار کیا۔یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ سائنسی تحقیق کے لیے لازم ہے کہ لفظ کے ایک ہی محقق اور مستقل معنی ہوں تا کہ تحقیق کا عمل ایک متعین راہ پر گامزن رہے۔شعر و سخن کی دُنیا میں لفظ کا ایسا جمود اور یک رنگی قبول نہیں ہے کیونکہ شعر کا حقیقی موضوع واردات قلب کا ایک حسین بیان واظہار ہے۔عشق اور محبت کی کیفیات کے بیان میں تو دل کے جذبات دریا سمندر سے بھی گہرے ہوتے ہیں اور حسن کی ہزار در ہزار تجلیات ہوتی ہیں۔اس ہجوم رنگ و بو کو دولفظوں میں سمجھنے کے لیے لفظ کی دلالتوں کو وسیع کرنا لازم ہوتا ہے۔اس لیے اگر لفظ ایک ہی معنی کے اظہار میں جم جائے اور دم سادھ لے تو بات نہیں بنتی۔اس صورت میں یا تو عشق و محبت اور حسن و جمال کی گوناں گوں تجلیات اور قلب کی نہاں در نہاں کیفیات کو بیان کرنا ترک کر دینا ہوگا یا پھر لفظ کے معانی اور اشارے کو اتنی وسعت دینی ہوگی جتنی کہ جذبات اور خیال کی وسعت ہے۔لفظ کی اس وسعت معانی کو اصطلاح میں مجازی معانی یا معانی مستعار کہتے ہیں۔غالب نے ٹھیک کہا ہے:۔بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے گو اس شعر میں غزل کی تکنیکی حدود و قیود کا ذکر ہے۔مگر دراصل جس تنگی کا غم غالب کو ہے وہ لفظ کی معنوی وسعت کا فقدان ہے۔حضرت اقدس کا یہ فرمانا: کس طرح تیرا کروں اے ذوالمن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار