ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 224 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 224

ب المسيح 224 ثناء باری تعالی اردو زبان میں مشرقی یا اسلامی ادب میں دستور ادبی کے مطابق اکثر شعراء نے اپنے کلام کی ترتیب میں اس کا التزام کیا ہے کہ وہ مجموعہ کلام اول قدم پر شناء باری تعالیٰ سے شروع ہو۔اس لیے اردو شعراء میں یہ صنف شعر کافی معروف اور مقبول ہے۔مگر تمام دواوین اور مجموعہ ہائے اردو ادب کی چھان بین کر لیں ثناء باری تعالیٰ میں حضرت کی اس نظم کے چندا شعار ہی اِن سب پر بھاری ہوں گے۔فرماتے ہیں: حمدوثنا اُسی کو جو ذاتِ جاودانی ہمسر نہیں ہے اُس کا کوئی نہ کوئی ثانی باقی وہی ہمیشہ غیر اُسکے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یار جانی دل میں مرے یہی ہے سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي ہے پاک پاک قدرت عظمت ہے اسکی عظمت لرزاں ہیں اہلِ قُربت کروبیوں پہ ہیبت ہے عام اسکی رحمت کیونکر ہو شکر نعمت ہم سب ہیں اسکی صنعت اس سے کرو محبت غیروں سے کرنا اُلفت کب چاہے اسکی غیرت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي جو کچھ ہمیں ہے راحت سب اس کی جو د ومنت اُس سے ہے دل کو بیعت دل میں ہے اسکی عظمت بہتر ہے اُس کی طاعت طاعت میں ہے سعادت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي سب کا وہی سہارا رحمت ہے آشکارا کو وہی پیارا دلبر وہی ہمارا