ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 210
المسيح 210 ذات سے آپ قائم ہے اور باقی تمام چیزوں کا قیام اس کے سہارے سے ہے اور جیسا کہ موت اُس پر جائز نہیں ایسا ہی ادنی درجہ کا تعطل حواس بھی جو نیند اور اونگھ سے ہے وہ بھی اُس پر جائز نہیں۔مگر دوسروں پر جیسا کہ موت وارد ہوتی ہے نیند اور اونگھ بھی وارد ہوتی ہے۔جو کچھ تم زمین میں دیکھتے ہو یا آسمان میں وہ سب اُسی کا ہے اور اُسی سے ظہور پذیر اور قیام پذیر ہے کون ہے جو بغیر اُس کے حکم کے اُس کے آگے شفاعت کر سکتا ہے وہ جانتا ہے جولوگوں کے آگے ہے اور جو پیچھے ہے یعنی اس کا علم حاضر اور غائب پر محیط ہے اور کوئی اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتا لیکن جس قدر وہ چاہے۔اس کی قدرت اور علم کا تمام زمین و آسمان پر تسلط ہے وہ سب کو اُٹھائے ہوئے ہے یہ نہیں کہ کسی چیز نے اُس کو اٹھا رکھا ہے اور وہ آسمان وزمین اور اُن کی تمام چیزوں کے اُٹھانے سے تھکتا نہیں اور وہ اس بات سے بزرگ تر ہے کہ ضعف و ناتوانی اور کم قدرتی اُس کی طرف منسوب کی جائے۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) اور فرماتے ہیں وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَوْدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ یعنی خدا کی کرسی کے اندر تمام زمین و آسمان سمائے ہوئے ہیں اور وہ اُن سب کو اٹھائے ہوئے ہے ان کے اٹھانے سے وہ تھکتا نہیں ہے اور وہ نہایت بلند ہے کوئی عقل اس کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی اور نہایت بڑا ہے اس کی عظمت کے آگے سب چیزیں بیچ ہیں۔یہ ہے ذکر کرسی کا اور یہ محض ایک استعارہ ہے جس سے یہ جتلا نا منظور ہے کہ زمین و آسمان سب خدا کے تصرف میں ہیں اور ان سب سے اس کا مقام دور تر ہے اور اس کی عظمت نا پیدا کنار ہے۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) دوسرے نمبر پر باری تعالیٰ کی ثناء ذاتی کے اظہار کے لیے ہم نے سورۃ الاخلاص کا انتخاب کیا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ حضرت اقدس اس سورۃ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں (الاخلاص : 2-5 ) حُسن ایک ایسی چیز ہے جو بالطبع دل کی طرف کھینچا جاتا ہے اور اس کے مشاہدہ سے طبعا محبت پیدا ہوتی ہے تو حسنِ باری تعالیٰ اس کی وحدانیت اور اس کی عظمت اور بزرگی اور