ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 200
المسيح 200 دلی مراد ہو گئی۔اور یہ وہ مرتبہ ہے کہ بجز اس کے کسی کو رسولوں اور نبیوں اور ابدالوں اور ولیوں میں سے عطا نہیں ہوا۔کیونکہ ان لوگوں نے اپنے بعض معارف اور علوم اور نعمتیں بتوسط عالموں اور باپوں اور احسان کرنے والوں کے پائی تھیں۔مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ پایا جناب الہی سے پایا۔نجم الہدی صفحہ 6 ، ر خ جلد (14) اس عظیم الشان حمد و ثناء باری تعالیٰ کے بعد ایک علوی نکتہ معرفت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تعریفوں کو انعام کے طور پر واپس کر دیتا ہے اور حامد کومحمود بنادیتا ہے۔فرماتے ہیں: و کذالک جرت سنتـه بـكـل صـديـق وحـيـد۔فحمد محمدنا في الارض و السماء بامر رب مجيد۔وفي هذا تذكرة للعابدين و بشرى لقوم حامدين۔فان الله يردّ الحمد الى الحامد و يجعله من المحمودين۔فيُحمد في العالمين۔اور تمام یگا نہ صدیقوں سے اُس کی یہی عادت ہے کہ وہ حامد کو محمود بنادیتا ہے۔پس ہمارا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم زمین و آسمان میں تعریف کیا گیا اور اس قصے میں پرستاروں کے لئے یاد رکھنے کی بات ہے۔اور خدا کے ثنا خوانوں کو اس میں بشارت ہے۔کیونکہ خدا تعریف کرنے والے کی تعریف کو اُسی طرف ردّ کر دیتا ہے۔اور اُسکو قابل تعریف ٹھیر دیتا ہے۔پس وہ دنیا میں تعریف کیا جاتا ہے۔نجم الہدی صفحہ 8، رخ جلد 14) اور پھر فرماتے ہیں وہی ہے جس کو اول احمد کے نام سے پکارا جاتا کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کی عظیم الشان تعریف کی ہوتی ہے اور اس کی جزا میں اللہ تعالیٰ اسکومحمد کا نام دیتا ہے تا کہ اس کی تعریف ہو۔فرماتے ہیں: و هـوا لـذي يدعى في السماء باسم احمد و يقرب و يدخل في بيت العزة و قصارة الدار۔و هى دار العظمة و الجلال يقال استعارة ان الله بناها لذاته القهار۔ثم يعطيه لحمّاد وجهه فيكون له كالبيت المستعار۔فيحمد هذا الرجل في السماء والارض بامر الله الغفّار۔ويدعى باسم محمد في الافلاک و البلاد والديار۔و معناه انه حَمّد حَمُدًا كثيرًا و اتفق عليه الاخيار من غير الانكار و ان هذين الاسمين قد وضعا لنبيّنا من يوم بناء هذه الدار۔