ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 199 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 199

199 ادب المسيح الاصطفاء۔فوجب عليه حمد هذا الرب الذى كفل كل امره بالاستيفاء۔ادخله تحت رداء الايواء و اصلح كل شانه بنفسه من غيره منة الاساتذ الأباء و الامراء۔و اتم عليه من لدنه جميع انواع الألاء و النعماء فحمده روح النبي بحمد لا يبلغ فكر الى اسراره ولاتدرک ناظرة حدود انواره۔و بالغ في الحمد حتى غاب و فنا فی اذکاره۔اور خدا تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے عطر سے اسقدر آنجناب کو معطر کیا کہ اس سے پہلے کوئی نبی اور رسول نہیں کیا گیا۔خدا نے اپنے پاس سے آپ کو علم دیا اور اپنے پاس سے فہم عطا کیا۔اور اپنے پاس سے معرفت بخشی۔اور اپنے پاس سے پاک کیا۔اور اپنے پاس سے ادب سکھلایا اور برگزیدگی کے پانی سے اپنے پاس سے نہلایا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اُس خدا کی تعریف کرنا واجب ہو گیا جو اس کے ہر ایک کام کا آپ متکفل ہوا۔اور اپنی پناہ کی چادر کے نیچے جگہ دی۔اور ہر ایک کام آنحضرت کا اپنی توجہ خاص سے بغیر توسط استادوں اور باپوں اور امیروں کے بنایا۔اور اپنے پاس سے اُس پر ہر ایک قسم کی نعمت پوری کی۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح نے خدائے تعالیٰ کی وہ تعریف کی جو کوئی فکر اُس کے بھیدوں تک نہیں پہنچ سکتا اور کوئی آنکھ اُس کے نوروں کی حدود کو پا نہیں سکتی۔اور اس نے خدا کی تعریف کو کمال تک پہنچایا یہاں تک کہ اُس کے ذکروں میں گم اور فنا ہو گیا۔( نجم الہدی صفحہ 4، 5، رخ جلد 14) ان عنایات بے پایاں کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی وہ بے مثال تعریف کی کہ کسی اور کو نصیب نہیں۔فرماتے ہیں: ففار قلبه لتحميد هذا المحسن حتى صار الحمد عين مراده۔و هذه مرتبة ما اعطاها الله لغيره من الرسل والانبياء و الابدال و الاولياء۔فانهم وجدوا بعض معارفهم و علومهم و نعمهم بوساطة العلماء و الأباء و المحسنين و ذوى الألاء۔و اما نبينا صلى الله عليه وسلم فوجد كل ما وجد من حضرة الكبرياء۔پس اُس محسن کی تعریف کے لئے اُس کے دل نے جوش مارا اور خدا تعالیٰ کی تعریف اُس کی