ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 198
المسيح 198 یہ اسم اعظم ہے اور وہ موصوف ہے اپنی اُن تمام صفات کا جو اس نے قرآن کریم میں بیان کی ہیں۔فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآن شریف میں اپنے نام اللہ کو تمام دوسرے اسماء وصفات کا موصوف ٹھہرایا ہے“ ( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) حضرت اقدس لفظ ” حمد“ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔وما تعلم ما الحمد و التحميد و لم اعلى مقامه الرب الوحيد و کفی لک من عظمته ان الله ابتدء به كتابه الكريم۔ليبين للناس عظمة الحمد و مقامه العظيم۔وانه لايـفـور مـن قلب الا بعد الهويّة والذوبان۔ولا يتحقق إلا بعد الانسلاخ و دوس اهواء النفس الثعبان ولا يجرى على لسان الا بعد اضطرام نار المحبة في الجنان۔بل لا يتحقق الا بعد زوال اثر الغير من الموهوم و الموجود۔ولا يتولد الا بعد الاحتراق في نار محبة المعبود۔اور تجھے کیا خبر ہے کہ حمد کہتے کس کو ہیں اور کیوں اس کا بلند پایہ ہے۔اور اُس کی عظمت سمجھنے کے لئے تجھے یہ کافی ہے کہ خدا نے قرآن شریف کی تعلیم کو حمد سے ہی شروع کیا ہے تا لوگوں کو حمد کے مقام کی بلندی سمجھا وے جو کسی دل میں سے بجز گدازش اور محویت کے جوش نہیں مارسکتی۔اور اسی وقت متحقق ہوتی ہے جب کہ مارنفس امارہ کچلا جائے۔اور نفسانی چولہ اتار لیا جائے۔اور یہ حمد کسی زبان پر جاری نہیں ہوسکتی بجز اس کے کہ پہلے دل میں محبت کی آگ بھڑ کے۔بلکہ یہ وجود پذیر ہی نہیں ہوسکتی جب تک کہ غیر کا نام ونشان بھی زائل نہ ہو جائے اور پیدا نہیں ہوسکتی جب تک کہ ایک شخص آتش محبت معبود حقیقی میں جل نہ جائے۔( نجم الہدیٰ صفحہ 12 ، ر۔خ جلد 14 ) حمد کی تعریف کے بعد حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ حمد و ثناء باری تعالیٰ میں سب سے اعلیٰ منصب ہمارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے کیونکہ فرماتے ہیں: وضمخه بعطر نعمه ازيد مما ضمخ احدا من الانبياء و علمه من لدنه و فهمه من لدنه و عرفه من لدنه و طهره من لدنه و ادبه من لدنه و غسله من لدنه بماء