ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 185
185 ادب المسيح اور دوسرے مقام پر آنحضرت سے یک جان اور متحد ہونے اور عشق کے بیان میں تو فرما چکے ہیں۔جان من از جان او یا بد غذا از گریبانم عیاں شد آں ذکا میری روح اُس کی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گر یہاں میں وہی سورج نکل آیا ہے۔مشاہدہ کریں کہ حضرت ” گریبان کی علامت کو صرف حضرت حسین کے لیے اختیار نہیں فرمار ہے بلکہ اس کے علامتی معنوں کے اعتبار سے فرما رہے ہیں کہ آپ کے دل و روح میں محبت الہی اور محبت رسول کے سوا اور کچھ نہیں۔ان امثال سے یہ حقیقت تو واضح ہوگئی کہ آپ حضرت گریبان کے لفظ کو علامت کے طور پر اختیار فرمار ہے ہیں تو پھر حضرت حسین کو ان علامتی معنوں سے کیوں محروم رکھا جائے اور کیوں نہ ان کو دیگر روحانی شخصیتوں کی طرح سے حضرت اقدس کا محبوب سمجھا جائے۔یہ بات بھی پھرسُن لینی چاہئیے کہ حضرت اقدس۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری تجلی اور وارث رسول اللہ ہیں۔اس نسبت سے اُن کو حضرت فاطمہ اور حسن اور حسین سے ویسی ہی محبت ہے جیسی کہ آپ کے آقا اور محبوب کو تھی۔اس محبت کے اظہار میں فرماتے ہیں۔جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم ثا ر کو چه آل محمد است میری جان و دل محمد کے جمال پر فدا ہیں۔اور میری خاک آل محمد کے کوچے پر قربان ہے۔اور پھر ایک نادر اندازِ بیان میں اور نہایت درجہ محبت سے فرماتے ہیں۔ہر کے اندر نماز خود دعائے مے کند من دعا ہائے بر و بار تو اے باغ بہار ہر شخص اپنی نماز میں (اپنے لیے ) دعا کرتا ہے مگر میں اے میرے آقا تیری آل و اولاد کے لیے دعا مانگتا ہوں یا نبی اللہ فدائے ہر سرِ مُوئے تو ام وقف را وتو کنم گر جاں دہندم صد ہزار اے نبی اللہ میں تیرے بال بال پر فدا ہوں اگر مجھے ایک لاکھ جانیں بھی ملیں تو تیری راہ میں سب کو قربان کر دوں آخر پر یہ گذارش ہے کہ ہم نے اس شعر کا تجزیہ ادبی اور اسالیب کی روشنی میں کرنے کی کوشش کی ہے۔حضرت اقدس نے ملفوظات جلد چہارم صفحہ 63 میں اس شعر کا علمی تجزیہ فرمایا ہے اس فرمان کو بھی پڑھ لینا ضروری ہے۔اس مضمون میں ادبی علامت ”جیب“ کی سند بعد میں آئی ہے اس لیے بعد میں پیش کی جارہی ہے۔فارسی اور اردو زبان میں ”جیب“ کا لفظ بھی گریبان کے معنوں میں مستعمل ہے۔حضرت اقدس کا شعر بیان