ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 183 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 183

ہی استعمال نہیں کیا۔183 ادب المسيح اول مقام پر تو آپ حضرت نے اس لفظ کو باری تعالٰی کی دلی محبت اور وصال کامل کے معنوں میں بہت ہی خوبصورت اور حسین انداز میں اختیار فرمایا ہے۔فرماتے ہیں: پر از نور داستان شد سینه ام شد ز دستے صیقل آئینه ام محبوب کے ٹور سے میرا سینہ بھر گیا میرے آئینہ کا صیقل اسی کے ہاتھ نے کیا پیکرم شد پیکر یار ازل کار من شد کار دلدار ازل میرا وجود اُس یار از لی کا وجود بن گیا اور میرا کام اُس دلدار قدیم کا کام ہو گیا بسکه جانم شد نہاں در یارِ من ہوئے یار آمد ازیں گلزارِ من چونکہ میری جان میرے یار کے اندر مخفی ہو گئی اس لیے یار کی خوشبو میرے گلزار سے آنے لگی از گریبانم برآمد دلبری نور حق داریم زیر چادرے ہماری چادر کے اندر خدا کا نور ہے۔وہ دلبر میرے گریبان میں سے نکلا احمد احمید آخر زمان نام من است آخریں جامے ہمیں جامِ من است آخر زماں میرا نام ہے اور میرا جام ہی دُنیا کے لیے) آخری جام ہے ایک اور مقام میں خدا تعالیٰ کے عشق کے بیان میں فرماتے ہیں: عشق تو به نقدِ جاں خریدیم تا دم نه زند دگر خریدار ہم نے نقدِ جان دے کر تیرا عشق خریدا ہے۔تاکہ پھر اور کوئی خریدار دم نہ مار سکے غیر از تو که سرزدے زِ جیم! در يُرج دلم نماند دیار تیرے سوا اور کون میرے گریبان میں سے نمودار ہوتا جبکہ میرے دل میں اور کوئی بسنے والا ہی نہیں عمریست که ترک خویش و پیوند کردیم و دے جز از تو دشوار ایک عمر گذر گئی کہ ہم نے عزیزوں اور رشتہ داروں سے تعلق منقطع کر لیا مگر تیرے بغیر ایک لحظہ گذار نا بھی مشکل ہے رسول اکرم سے کامل اتحاد اور عشق کے بیان میں فرماتے ہیں: