ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 140 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 140

المسيح 140 اور پھر لبید کے کلام کی تعریف میں فرمایا: اس سے کیوں تعجب کرنا چاہئے کہ لبید جیسے صحابی بزرگوار کے کلام سے اس کے کلام کا توار د ہو جائے۔خدا تعالے جیسے ہر ایک چیز کا وارث ہے ہر ایک پاک کلام کا بھی وارث ہے اور ہر ایک پاک کلام اُسی کی توفیق سے منہ سے نکلتا ہے۔“ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، رخ۔جلد 21 صفحہ 162 ) اس لیے اگر ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ معلقات میں اول درجہ اور مقام حضرت لبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے تو ہم ہر اعتبار سے حق بجانب ہوں گے۔حضرت لبید رضی اللہ تعالیٰ اور حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی روحانی اور شعری قرب و مناسبت کو دونوں حضرات کے ایک شعر کی مثال پر ختم کرتا ہوں۔لبیڈا اپنے محبوب قبیلے کے غیر آباد اور تباہ شدہ قیام گاہ کے نشانوں کو ( جن کو سیلاب نے دوبارہ اجاگر کر دیا ہے) دیکھ کر کہتا ہے۔وَجَلا السُّيُولُ عَنِ الطُّلُولِ كَأَنَّهَا زبرٌ تُجِدُّ مُتُونُهَا أَفَلَامُهَا ترجمہ: سیلابوں کے بہنے نے کھنڈروں سے یہ ظاہر کر دیا ہے گویا وہ کھنڈر کتابیں ہیں جن کے مٹے ہوئے متنوں کو اُن کے قلموں نے نیا اور چمکا دیا ہے۔حضرت اقدس بعینہ لبید کی طرح سے ایک رمضان کے ماہ میں سورج اور چاند کے گرہن کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان کا ٹکڑے ہو جانا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو تازہ اور اجاگر کرتا ہے۔قَطَعَاتُهَا تَهْدِى الْقُلُوبَ كَأَنَّهَا زُبُرٌ تُجِدُ نُقُوشَ شَمْسٍ مُقْتَدَا ترجمہ: اس کے ٹکڑے دلوں کو ہدایت کرتے ہیں گویا وہ کتابیں ہیں جو ہمارے آفتاب یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشوں کو تازہ کرتی ہیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شعری محاسن کے اعتبار سے آثار میں ہے کہ جب فرزدق جیسے عظیم الشان شاعر نے لبید کا یہ شعر سنا تو سجدہ ریز ہو گیا۔استفسار پر اس نے جواب دیا کہ تم لوگ قرآن کریم کے مقامات سجدہ کو پہچانتے ہو اور میں شعر کے مقام سجدہ کو جانتا ہوں۔اگر لبید کے شعر پر سجدہ ہوسکتا ہے تو۔آنحضرت کی پیشگوئی ثابت ہونے کے اعتبار سے تو حضرت کا شعر ہزا ر سجدوں کے لائق ہے۔ہم نے ادب جاہلیہ اور حضرت اقدس کے اتحاد اسلوب بیان میں بہت ہی کم مثالیں پیش کی ہیں کیونکہ