ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 138 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 138

المسيح 138 طرفہ اپنی ناقہ کی خوبی کے بیان میں کہتا ہے وَصَادِقَنَا سَمُعَ التَّوَجُسِ لَلسُّرى لِهَجَسٍ خَفِي أَوْ لِصَوْتٍ مُّنَدَّدٍ ترجمہ: اس کے دونوں کان رات میں چلتے وقت کا نا پھوسی کی طرف بہت ٹھیک اور سچے ہیں اُس کا کان لگا نا خواہ پست آواز کی طرف ہو یا بلند آواز کی طرف۔حضرت اقدس وحی الہی کی آواز کے بیان میں فرماتے ہیں۔وَمَا قُلْتُ إِلَّا مَا أُمِرْتُ بِوَحْيِهِ وَمَا كَانَ هَجُسٌ بَلْ سَمِعْتُ مُنَدَّدَا ترجمہ: اور میں نے وہی بات کہی جس کا مجھے خدا کی وحی سے حکم دیا گیا اور وہ کوئی نا قابل فہم دھیمی آواز نہ تھی بلکہ میں نے تو ایک پر شوکت آواز سنی ہے۔ایک اور مثال بھی سُن لیں۔طرفہ اپنی ناقہ کی چست رفتاری کے بیان میں کہتا ہے۔احَلْتُ عَلَيْهَا بِالْقَطِيعِ فَاجْذَمَتُ وَقَدْ حَبَّ الُ الْامُعَنِ الْمُتَوَقَد میں نے اپنی ناقہ پر سوار ہو کر کوڑا اٹھایا چنانچہ وہ چٹیل زمین میں موج مارتی ہوئی گرم ریت پر خوب دوڑی حضرت اقدس مکفرین پر حجت پوری کرنے کے بیان میں فرماتے ہیں۔رَأَيْتُ تَغَيَّظُكُمْ فَلَمُ الُ حُجَّةً وَوَطِئْتُ ذَوُقًا أَمْعَرًا مُّتَوَقِدَا ترجمہ: میں نے تمہارا غصہ دیکھا سو میں نے محبت پوری کرنے میں کوتاہی نہیں کی اور میں نے پتھریلی اور بھڑکتی ہوئی زمین کو ذوق و شوق سے پامال کیا۔جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ سبع معلقات کے شاعروں میں لبید نے اپنا منصب تیسرے نمبر پر رکھا ہے۔یعنی اول امراؤ القیس دوم طرفہ اور سوم لبید بن ربیعہ شعری اور ادبی عظمت کے اعتبار سے اس کے فیصلے سے اختلاف کرنا ممکن نہیں۔وہ ایک جلیل القدر شاعر اور صاحب ذوق سلیم ہستی تھا۔مگر روحانی اعتبار سے دل یہ چاہتا ہے کہ لبید کو اول مقام دیں۔کیونکہ معلقات کے شعراء میں لبید ہی ایک ایسے خوش نصیب شاعر ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا۔جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور جن کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ “ کا خطاب متصل ہوا۔معلقات کے شعراء میں یہ ایک ایسا افتخار ہے جو کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔اور پھر حضرت لبیڈ ہی ایک ایسے شاعر ہیں جن کے دو مصرعے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے