ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 117
اسی مضمون میں کسی استاد کا شعر ہے۔117 ادب المسيح در دلے ما غم دنیا غم معشوق شود باده گر خام بود پخته کند شیشه ما ترجمہ: میرے دل میں دنیا کا غم بھی محبوب کا غم ہو جاتا ہے اگر شراب خام بھی ہو تو بھی میرے دل کی صراحی اُسے پختہ کر دیتی ہے۔یعنی تمام غم محبوب کے غم میں ڈوب جاتے ہیں۔غزل کی لغوی تعریف کے تعلق میں یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے عملی طور پر فارسی ادب میں اس صنف شعری کو صرف مجازی عشق و محبت کے بیان میں محدود نہیں کیا گیا۔چنانچہ رود کی سے لے کر آج کے شعراء تک غزل کے مضامین میں بہت وسعت پیدا ہو چکی ہے اور اخلاق اور دین اور محبت الہی اس صنف کے تسلیم شدہ موضوعات بن چکے ہیں۔فارسی ادب میں ابوسعید ابوالخیر۔سعدی۔سنائی۔عطار اور رومی نے فارسی غزل کو تصوف اور محبت الہی کے بیان سے آشنا کیا ہے۔اور پھر سعدی کی شکستہ اور سلیس زبان اور حافظ کے والہانہ پر درد کلام نے فارسی ادب کے روحانی مزاج کو متعین کیا ہے۔اور اس میں سلوک کے مضامین کے اسلوب بیان کو تخلیق کیا ہے۔شاید فارسی زبان کا یہ ارتقائی سفر ہی اس اعزاز کا باعث ہوا ہو کہ ہمارے آقا اور مطاع حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو عربی زبان کے سوا صرف فارسی زبان ہی میں الہام ہوا ہے۔ایس مشتِ خاک را گر نه خشم چه کنم اس مٹھی بھر خاک کو اگر معاف نہ کروں۔تو کیا کروں ) باری تعالیٰ کا یہ فرمان فارسی محاسن کلام کا معراج ہے اور ہر انسان کے لیے ایک مردہ جانفرا ہے۔اس تسلسل میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فارسی شاعروں کی خوش نصیبی ہے کہ ان میں سے سعدتی کے آٹھ اور حافظ کے تین اشعار اور مصرعے حضرت اقدس کو الہام ہوئے ہیں اس خوش نصیبی کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ شاعر آپ حضرت کے دل پسند شاعر تھے اور آپ کی پسند کی پاسداری میں اللہ تعالیٰ نے مختلف پیش آمدہ حالات کے مطابق آئندہ کی اخبار دینے کی غرض سے اُن کے کلام میں آپ سے خطاب کیا اور آپ کی دل پسندی کو اپنی پسند بھی بنالیا۔مثال کے طور پر ایک موقع پر مخالفین کی طرف سے ایک اشتہار میں آپ کے خلاف بد کلامی پر آپ کو بہت رنج ہوا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دلجوئی کے طور پر حافظ شیرازی کا یہ مصرعہ الہام کیا: